لڑکے کا جسیم نام رکھنا کیسا ہے ؟
واضح رہے کہ "جسیم " کا معنی ہے " طاقتور بڑے جسم والا ہونا " ۔ لہٰذا معنی کے اعتبار سے کسی لڑکے کا یہ نام رکھنا جائز ہے اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بچوں کے نام انبیائے کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم یا دیگر صالحین کے ناموں پر رکھے جائیں تو باعث فضیلت و برکت ہے ۔
کما فی تاج العروس من جواهر القاموس : (و) جَسُمَ (كَكَرُمَ) جَسامَةً: (عَظُمَ فَهُوَ جَسِيمٌ) ، كَأَمِيرٍ. والجَمْعُ جِسامٌ، (وجُسامٌ، كَغُرابٍ، وَهِي بهاءٍ)، قَالَ: (أَنْعَتُ عَيْراً سَهْوَقاً جُساما)
(والجَسِيمُ: البَدِينُ) أَي: العَظِيمُ البَدَنِ.
(و) جاسِم، (كصاحِبٍ: ة بالشامِ)، أَنْشَدَ ابنُ بَرِّي لابنِ الرِّقاع:
(فَكَأَنَّها بَيْنَ النِّساءِ أعارَها ... عَيْنَيْه أَحْوَرُ مِنْ جَآذِرِ جاسِمِ)
ويُرْوَى: عاسِمِ. قَالَ الْحَافِظ: وَحَبِيبُ بن أَوْسٍ الطائيُّ كانَ يَسْكُن هذِه القَرْيَةَ. ((404/31، ط: دار الهداية)