السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
کیا فرماتے ہیں علماءکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک مسجد میں امام ہوں اور مسجد گراؤنڈ فلور اور فرسٹ فلور پر مشتمل ہے، جبکہ جماعت مستقل فرسٹ فلور پر ہوتی ہیں۔ جب تک مسجد کا اوپر کا حصہ تیار نہیں تھا اس وقت تک نیچے کے حصے میں جماعت ادا کی جاتی تھی، جب سے اوپر کا حصہ تیار ہوا ہے اس کے بعد سے علاوہ چند ایام ِگرمی کےظہر اور عصر کی نماز کےباقی تمام نمازیں اوپر کے حصے میں ادا کی جاتی ہیں ،چونکہ یہ مسجد جس جگہ قائم ہے اس کی تمام تر آبادی مسجد کے اوپر کے حصے سے قریب ہیں نیچے کے حصے میں کھائی ہے مزید آبادی نہیں ،جبکہ مسجد کے اوپر کے حصے تک تقریبا بیس(20 ) سیڑھیاں بنتی ہیں اور نیچے کی منزل تک مزید پندرہ (15) سیڑھیاں ہیں، جس میں بوڑھے حضرات کو اترنے میں تکلیف ہوتی ہے اور مسجد کے اوپر کے حصے میں وضو اور استنجا کی سہولت بھی موجود ہے جبکہ نیچے کے حصے میں سہولت نہیں ہے ،بانیان مسجد کا کہنا ہے کہ ابتدا سے ہماری نیت اوپر مسجد بنانے اور نماز پڑھنے کی تھی ،تقریبا مسجد کے بننے کے کل انیس(19) سال ہو چکے ہیں ابتدائی پانچ سال کے علاوہ نماز کی ترتیب اہل علاقہ علماء کے مشورہ سے اوپر کے حصے میں ہی بنائی گئی تھی، جبکہ میرے یہاں دو سال ہو چکے ہیں بعض باہر سے آنے والے علماء اور مفتیان کرام کا کہنا ہے کہ اوپر کے حصے میں جماعت کرانا درست نہیں، آپ حضرات سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی رہنمائی فرمائی ۔
نوٹ: واضح رہے کہ مسجد کے دونوں حصوں کا راستہ دروازہ الگ الگ باہر سے ہے،نیز یہ بھی واضح فرمائیں کہ گرمی میں نماز نیچے پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ مذکور مسجد کی بالائی منزل پر چھت ڈال کر اسے باقاعدہ مسقف بنایا گیا ہو، اور نماز کی نیت ہی سے بنایا گیا ہو، تو اس میں جماعت کرانے سے اگرچہ نماز درست ادا ہوگی،مگرمسجد کی نچلی منزل کو چھوڑ کر مستقل طور پر بالائی منزل میں نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرنا مسجد کی اصل وضع اور امت کے متوارث طریقے کے خلاف ہونے کی وجہ سے مناسب نہیں، اس لئے بہتر یہ ہے کہ جماعت کھڑی کرتے وقت امام اور مقتدی نچلی منزل سے ہی نماز کے لئے صفیں بنانا شروع کریں اور نچلی منزل میں صفیں مکمل ہونے کے بعد بالائی منزل میں صفیں بنا کر نماز پڑھنے کا اہتمام کر لیا جائے۔(کذا فی احسن الفتاوی ،ج:3 ،ص:286)
کما فی الدر المختار: و) كره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى عنان السماء الخ(مطلب في أحكام المسجد،ج:1۔ص:656،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الرد تحت (قولہ لأنه مسجد) علة لكراهة ما ذكر فوقه. قال الزيلعي: ولهذا يصح اقتداء من على سطح المسجد بمن فيه إذا لم يتقدم على الإمام ولا يبطل الاعتكاف بالصعود إليه ولا يحل للجنب والحائض والنفساء الوقوف عليه؛ ولو حلف لا يدخل هذه الدار فوقف على سطحها يحنث اهـ (قوله إلى عنان السماء) بفتح العين، وكذا إلى تحت الثرى كما في البيري عن الإسبيجابي. بقي لو جعل الواقف تحته بيتا للخلاء هل يجوز كما في مسجد محلة الشحم في دمشق؟ لم أره صريحا، نعم سيأتي متنا في كتاب الوقف أنه لو جعل تحته سردابا بالمصالحة جاز تأمل الخ(مطلب في أحكام المسجد،ج:1۔ص:656،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ: الصعود على سطح كل مسجد مكروه، ولهذا إذا اشتد الحر يكره أن يصلوا بالجماعة فوقه إلا إذا ضاق المسجد فحينئذ لا يكره الصعود على سطحه للضرورة، كذا في الغرائب الخ:(باب احکام المساجد،ج:5،ص:322،مط:ماجدیہ)
وفی الدر المختار ایضاً:شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه كما صرح به في شرح المجمع للمصنف الخ(مطلب القاضي إذا قضى في مجتهد فيه نفذ قضاؤه إلا في مسائل،ج:4،ص:492،مط:ایچ ایم سعید)
وکذا فی احسن الفتاویٰ (ج؛3،ص:286،مط:ایچ ایم سعید)