اپنے بیٹے کا نام " ارہان"رکھنا ہے کیا یہ نام مناسب ہے۔
"ارہان" اگر الف کے زیر کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے" ثابت قدم رہنا" اس معنی کی رو سے اگر چہ یہ نام رکھنے کی گنجائش ہے، لیکن اگر الف کے زبر کے ساتھ ہو تو یہ رہن سے ہے، اور اس کا معنی ہے " گروی رکھی ہوئی چیز" چنانچہ اس معنی کو دیکھتے ہوئے اپنے بچے کا یہ نام رکھنا مناسب نہیں، لہذا سائل کو چاہئے کہ اپنے بچے کیلئے اس نام کے بجائے انبیاء علیھم السلام و صحابہ کرام کے ناموں میں سے کوئی نام رکھے، یہ زیادہ بہتر ہے۔
کما فی الھندیۃ:وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط(کتاب الحظر والاباحۃ،الباب الثانی والعشرون،ج: ،5،ص:362،دار الفکربیروت،)
وفی شمس العلوم : [الإِرْهان]: أرهنتُ الشيءَ: أدمته.(ج:4، ص:2661،ط: دارالفکر)