کیا مسجد کا محراب بنانا اور مسجد کے اندر اذان دینا بدعت ہے؟
واضح ہو کہ مساجد میں محراب بنانے کا مقصد یہ ہے کہ قبلہ کا رخ متعین ہو اور امام کا صفوں کے درمیان کھڑا ہونا معلوم ہوسکے، چونکہ آپ ﷺ کے دور سے لیکر آج تک مسلمانوں میں مساجد میں محراب بنانے کا رواج ہے، خود مسجد نبوی ﷺ میں بھی آپ ﷺ کے مبارک دور میں محراب بنائی گئی تھی، جیسا کہ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے، اس لیے مسجد میں محراب بنانے کو بدعت کہنا درست نہیں۔
جہاں تک مسجد میں اذان دینے کا تعلق ہے تو چونکہ اذان کا مقصد اعلام ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اذان کی آواز پہنچے، اس لیے قدیم زمانہ میں لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے مسجد سے متصل ہی کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر اذان دی جاتی تھی، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اذان کی آواز پہنچ سکے، البتہ آج کل لاؤڈ سپیکر اس مقصد کے لیے بہترین ذریعہ ہے، اس لیے اگر لاؤڈ سپیکر مسجد کے اندر ہو اور مؤذن مسجد ہی میں اذان دے تو بلاکراہت جائز ہے، اس کو مطلقاًبدعت کہنا درست نہیں۔
كما في السنن الكبرى للبيهقي: «عن وائل بن حجر قال: حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أو حين نهض إلى المسجد فدخل المحراب، ثم رفع يديه بالتكبير، ثم وضع يمينه على يسراه على صدره "» (2/ 46 ط العلمية)
وفي عون المعبود وحاشية ابن القيم: «قلت ما قاله القارىء من أن المحاريب من المحدثات بعده صلى الله عليه وسلم فيه نظر لأن وجود المحراب زمن النبي صلى الله عليه وسلم يثبت من بعض الروايات أخرج البيهقي في السنن الكبرى من طريق سعيد بن عبد الجبار بن وائل عن أبيه عن أمه عن وائل بن حجر قال حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم نهض إلى المسجد فدخل المحراب ثم رفع يديه بالتكبير الحديث وأم عبد الجبار هي مشهورة بأم يحيى كما في رواية الطبراني في معجم الصغير. وقال الشيخ بن الهمام من سادات الحنفية ولا يخفى أن امتياز الإمام مقرر مطلوب في الشرع في حق المكان حتى كان» «التقدم واجبا عليه وبنى في المساجد المحاريب من لدن رسول الله صلى الله عليه وسلم. انتهى» (2/ 103)
وفي عمدة القاري شرح صحيح البخاري: «وَذكر أَبُو الْبَقَاء أَن جِبْرِيل عليه الصلاة والسلام وضع محراب رَسُول الله مسامت الْكَعْبَة، وَقيل: كَانَ ذَلِك بالمعاينة، بِأَن كشف الْحَال وأزيلت الحوائل، فَرَأى رَسُول الله الْكَعْبَة فَوضع قبْلَة مَسْجده عَلَيْهَا» (4/ 126)
وفي اعلاء السنن: واعلم أن الأذان لا یکرہ في المسجد مطلقا کما فهم بعضهم من بعض العبارات الفقهیة۔ (أبواب الجمعۃ، باب التأذنین عند الخطبة کراچی ۸/ ۶۹، دارالکتب العلمیة بیروت ۸/ ۸۷)
وفي الفتاوى الهندية: «وجهة الكعبة تعرف بالدليل والدليل في الأمصار والقرى المحاريب التي نصبها الصحابة والتابعون فعلينا اتباعهم فإن لم تكن فالسؤال من أهل ذلك الموضع وأما في البحار والمفاوز فدليل القبلة النجوم. هكذا في فتاوى قاضي خان.» (1/ 63)