نام رکھنے کا حکم

حدید نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
95837
| تاریخ :
2026-05-30
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

حدید نام رکھنا کیساہے

السلام علیکم ؛حضرت! رہنمائی فرمائیں کہ حدید نام رکھنا کیسا ہے؟ کیا حدید کے ساتھ عبد الحدید ملا سکتے ہیں یا محمد حدید رکھ سکتے ہیں ؟جزاک الله خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ" حدید"کے معنیٰ لوہا، لوہے کی سلاخ ،تیز،سخت اور غصہ کے آتے ہیں ،نیز بعض اہلِ لغت کے ہاں پڑوسی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، لہٰذا ان معانی کے اعتبار سے لڑکے کا نام "حدید "یا "محمدحدید"رکھنا شرعاً درست ہے، خصوصاً اس نیت سے کہ وہ باطل اور دینِ اسلام کے دشمنوں کے مقابلے میں لوہے اور تلوار کی دھار کی طرح مضبوط و تیز ہو، جبکہ ’’الحدید‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے نہیں،اس لیے بچے کانام "عبدالحدید" رکھنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی المعجم الوسيط: (الحدة) القوة يقال أخذته حدة الغضب وهو معروف بحدة التفكير أي عمقه، (الحديد) عنصر فلزي يجذبه المغناطيس يصدأ ومن صوره الحديد الزهر والمطاوع والصلب (ج) حدائد ويقال فلان حديد فلان إذا كانت داره إلى جانب داره أو أرضه إلى جنب أرضه وداري حديدة دارك محادتها اھ (باب الحاء، ج:1، ص:161، ط:دار الفکر)۔
وفی القاموس المحيط: والحديد: م، ج: حدائد و حديدات، و الحداد: معالجه والسجان، والبواب، والبحر، ونهر.والاستحداد: الاحتلاق بالحديد.وحد السكين، وأحدها وحددها: مسحها بحجر أو مبرد، فحدت تحد حدة، واحتدت، فهي حديد، وحداد، كغراب ورمان، ج: حديدات وحدائد وحداد. وناب حديد وحديدة، ورجل حديد وحداد من أحداء وأحدة وحداد: يكون في اللسن، والفهم، والغضب، وحد عليه يحد حددا، وحدد، واحتد، واستحد: غضب (باب الدال، فصل الحاء، ص:276، ط:مؤسسۃ الرسالۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95837کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات