میں ایک شرعی مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم تفصیل دیکھ کر رہنمائی فرمائیں۔
میں ایک ایسی کمپنی میں کام کرتا ہوں جو مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خودکار کال کرنے والے بوٹس تیار کرتی ہے۔ ہماری کمپنی کے گاہک پاکستان کے وہ کال سینٹرز ہیں جو امریکہ کی انشورنس کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
طریقۂ کار یہ ہے کہ امریکہ کے لوگوں کو کال کی جاتی ہے۔ شروع میں ایک AI بوٹ ان سے بات کرتا ہے اور انشورنس کے بارے میں سوالات کرتا ہے۔ اگر وہ شخص دلچسپی رکھتا ہو یا مطلوبہ شرائط پوری کرتا ہو تو بوٹ کال کو کال سینٹر کے ایک نمائندے کے پاس منتقل کر دیتا ہے۔ پھر وہ نمائندہ اس شخص کو انشورنس لینے پر آمادہ کرتا ہے۔ اگر انشورنس فروخت ہو جائے تو امریکی انشورنس کمپنی کال سینٹر کو کمیشن یا معاوضہ دیتی ہے۔
ہماری کمپنی کا کام ان کال سینٹرز کے لیے AI بوٹس بنانا، انہیں ان کے نظام کے ساتھ جوڑنا، ان کی نگرانی کرنا اور ان کے مسائل حل کرنا ہے۔ یہ بوٹس صرف انشورنس سے متعلق کام کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ہماری کمپنی کی آمدنی بھی انہی انشورنس سے متعلق بوٹس سے حاصل ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ ان کال سینٹرز میں کام کرنے والے بہت سے نمائندے اپنے اصل نام استعمال نہیں کرتے بلکہ امریکی نام اختیار کرتے ہیں، اور بعض اوقات اپنی شناخت یا مقام کے بارے میں بھی ایسا تاثر دیتے ہیں کہ جیسے وہ امریکہ سے بات کر رہے ہوں، حالانکہ حقیقت میں وہ پاکستان میں موجود ہوتے ہیں۔
اب میرے سوالات یہ ہیں:
کیا ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟
کیا انشورنس کی فروخت میں اس طرح معاونت کرنا ناجائز کام میں تعاون شمار ہوگا؟
کیا AI بوٹس بنانا، انہیں نصب کرنا، ان کی نگرانی کرنا اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا اس ناجائز کام میں تعاون شمار ہوگا؟
کیا اس ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ حلال ہوگی یا حرام؟
اگر کال سینٹر کے نمائندے اپنی اصل شناخت اور نام چھپا کر کسی اور شناخت کے ساتھ بات کرتے ہوں تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
اگر کسی شخص کو اس کام کے جائز ہونے کے بارے میں اطمینان نہ ہو اور اس کا دل بھی مطمئن نہ ہو تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔
انشورنس کمپنیوں کیلئے ایسے اے آئی بوٹس بنا کر دینا جو براہ راست بیمہ پالیسی کی ڈیلنگ کرتے ہیں ، جس سے لوگ انشورنس پالیسی لینے پر آمادہ ہوں تویہ سافٹ ویئر بنا کر دینا یا ایسی سروس فراہم کرنا تعاون علی امعصیہ کی بناء پر شرعاً جائز نہیں اور اس کام پر ملنے والی تنخواہ بھی حلال و طیب نہ ہوگی ، اس لئے سائل کواس طرح کے کاموں سے اجتناب لازم ہے۔
جبکہ کال سینٹر کے نمائندے کا دھوکہ دہی اور جھوٹ کا سہارا لیکر اپنی شناخت چھپا نا جائز نہیں ہے۔
قال الله تعالى :وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان .(المائدة:02).
کما فی الھندیہ : و لا تجوز الإجارة على شيء من الغناء و النوح و المزامير و الطبل و شيء من اللهو و على هذا الحداء و قراءة الشعر و غيره و لا أجر في ذلك و هذا كله قول أبي حنيفة و أبي يوسف و محمد رحمهم الله تعالى . كذا في غاية البيان . اھ(4/449)۔
وکذٰلک الحکم في برمجۃ الحاسب الآلی (الکمبیوتر)لبنک ربوی، فان قصد بذٰلک الإعانۃ، او کان البرنامج مشتملا علی مالا یصلح الا فی الأعمال الربویۃ،أو الأعمال المحرمۃ الأخری،فان العقد حرام باطل.أما اذا لم یقصد الإعانۃ ،ولیس في البرنامج ما یتمحض للأعمال المحرمۃ ،صح العقد وکرہ تنزیھا.(فقه البيوع:194/1)
فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (سورۃ الحج: 30)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ(سورۃ التوبۃ: 119)
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ(سورۃ المطففین: 1-3)
فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا
أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ، أَلَا وَشَهَادَةُ الزُّورِ
دورِ حاضر میں ، حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کی ضرورت کی بناء پر ، گھر میں ،ٹی وی رکھنا
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 0ایسا سافٹ ویئر بنانا جس کو جائز و ناجائز دونوں طرح کے کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہو
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 2سوفٹ ویئر انجینئر کے لیےایسے کمپنی میں کام کرنا جو موبائل گیمز بناتی ہواور آن لائن حل مہیا کر کے کرایہ لینے کا حکم
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 0ملٹی میڈیا کے شعبے میں کام اور اس میں ٹیکنیکل مسائل کی دیکھ بال کرنے پر اجرت لینے کا حکم
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 0