السلام علیکم ! مودبانہ گزارش ہے کہ میں جو تحریر لکھ رہا ہوں انشاء الله اس میں کسی قسم کا جھوٹ اور دھوکہ نہیں ہوگا، اگر میں نے غلط بیانی کی، آخرت میں اس کا ذمہ دار ہونگا، جناب و الا! میرے دادا سن 1993 میں وفات پاگئے تھے ، اور اس کا ایک بیٹایعنی میرے والد اور تین بہنیں تھیں ، ہمارے والد 2017 میں وفات پاگئے ، ایک پھو پھی 2017 میں والد کی وفات سے پہلے فوت ہوگئیں ، ایک پھوپھی 2024 میں اور تیسری پھوپھی 2025 میں فوت ہوئی ، ہماری پھو پھی یعنی والد کی بہنوں نے گواہان کے سامنے یہ اقرار کیا تھا کہ ہمارا ایک بھائی ہے ، ہم اس سے جائیداد میں حصہ نہیں مانگتے ہیں، وہ گواہان اب بھی زندہ ہیں ، اور اقرار کرتےہیں کہ ہمارے سامنے یہ بات ہوئی تھی ، اب تقریباً ایک سال ہو چکا ہے ، ان کے فوت ہوئے ، ان کے بیٹے جو کہ خود کچھ نہیں کرتے ، ہم کو بار بار دھمکی دے رہے ہیں کہ ہماری والدہ کا حصہ ہمیں دو، حالانکہ ہمارے گاؤں میں بہت سے فیصلے ہوگئے ہیں کہ جو بہن زندہ ہے وہ خود اپنا حصہ لے سکتی ہے، اور جو فوت ہوچکی ہوں ان کے بچوں کو حصہ نہیں ملتا، آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کا حل دین و سنت کی رو سے بتائیں۔
واضح ہو کہ ورثاء میں سے کسی وارث کا اپنے حق وراثت سے دستبردار ہونا شرعاً معتبر نہیں، بلکہ اس کے باوجود وہ اپنے حق کا مطالبہ کرسکتا ہے، چنانچہ صورت مسئولہ میں سائل کے دادا کے انتقال کے وقت سائل کے والد اور تین پھوپھیاں حیات تھیں ، لہذا وہ اپنے شرعی حصہ کی حقدار بن چکی تھیں اور مذکور اقرار کی وجہ سے وہ اپنے حق وراثت سے محروم نہیں ہوئیں، بلکہ اس کے باوجود بدستور حقدار تھیں، لہذا سائل پر لازم ہے کہ وہ اپنے پھوپھی زاد بہن بھائیوں کو ان کا شرعی حق حوالہ کرکے مؤاخذہ اخروی سے سبکدوشی کی فکر کرے ، مذکور غلط فیصلہ کی وجہ سے اپنی آخرت برباد نہ کرے۔
کما فی العقود الدریۃ فی فتاوی تنقیح الحامدیۃ: (سئل)في أحد الورثة إذا أشهد عليه قبل قسمة التركة المشتملة على أعيان معلومة أنه ترك حقه من الإرث وأسقطه وأبرأ ذمة بقية الورثة منها ويريد الآن مطالبة حقه من الإرث فهل له ذلك؟
(الجواب) : الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط وقد أفتى به العلامة الرملي كما هو محرر في فتاواه من الإقرار نقلا عن الفصولين وغيره فراجعه إن شئت.(کتاب الدعوی، ج: ٢، ص: ٢٧، مط: حقانية)
وفی الفتاویٰ الخیریة: سئل فی رجل مات عن أم وأولاد وزوجة وترك میراثا فقبل قسمته أَشْهَدَتِ الأم علی أنها إنما لا تستحق قِبَلَهمْ حقاً ولا إرثا وابرأت ذمتهم ولم تتعَرض لاِسقاط ما تستحقه من الترکة فهل هذا الإبراء یشمل ما تستحق من الترکة قبل قسمتهما؟ (أجاب) صرح علماءنا بأن الإرث لا یصح اسقاطه اذ ھو جبریّ(إلی قوله) ولو قال وارث ترکت حقی لم یبطل حقه لأن لملك لا یبطل اھ(کتاب الاقرار، ج:٢، ص: ٥١، رقم المسئلة: ١٨١٩)
وفی شرح الأشباه والنظائر: لو قال الوارث:تركت حقي لم يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك(الفن الثالث: الجمع و الفرق، ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله،ص: ٢٧٢، مط: دار الكتب العلمية)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0