کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کے چار بیٹے تھے،جس میں سےسب سے بڑا بیٹا ملائیشیا چلا گیا،اور وہ وہاں کمائی کرکے گھر پر پیسے بھیجتا رہا،جس سے گھر کا خرچ چلتا تھا،اور اس نے کچھ پیسے اپنے پاس بھی رکھے ،جس سے بعد میں اس نے کسی دوسرے فرد کی مدد کے بغیر اس الگ کی ہوئی رقم سے ایک مکان خرید لیا،پھر اس کے والد کا انتقال ہوگیا،اب تقسیم ترکہ کے وقت دیگر تین بھائیوں کا کہنا ہے کہ ذاتی پیسوں سے خریدے ہوئے گھر کو بھی تقسیم کیا جائے کیونکہ وہ گھر بھی والد کی زندگی میں ہی خریداگیا تھا ،کیا والد کی زندگی میں اگر کوئی بیٹا ذاتی رقم سے کوئی مکان یا جائیداد وغیرہ خرید لے تو کیا وہ والد کی ملکیت کہلاتی ہے ؟اور دیگر بھائی اس کی تقسیم کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟
واضح ہوکہ والد کی زندگی میں کسی بیٹے کا ذاتی کمائی سے کوئی مکان یا جائیداد خریدنے سے وہ والد کی ملکیت نہیں بن جاتی ،جب تک وہ والد کو باضابطہ حوالہ نہ کردے بلکہ وہ اسی کی ملکیت کہلاتی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں مذکور بڑے بھائی کا والد کی زندگی میں ذاتی کمائی سے خرید ا ہوا مکان اسی کی ملکیت ہے،لہذا دیگر بھائیوں کا بڑے بھائی سے مذکور مکان کو اس کی رضامندی کے بغیر ترکہ میں شامل کرکے تقسیم کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں،جس سے اجتناب لازم ہے۔
کمافی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ:(سئل)فی ابن کبیر لہ عیال وکسب مات ابوہ عنہ وعن ورثۃ یدعون ان ماحصلہ من کسبہ مخلف عن ابیھم ویریدون ادخالہ فی الترکۃ فھل حیث کان لہ کسب مستقل یختص بماانشاء من کسبہ ولیس للورثۃ مقاسمتہ فی ذالک ولا ادخالہ فی الترکۃ(الجواب)نعم۔(کتاب الدعوی،ج:2،ص:17، مط:مکتبہ حقانیہ)
وفیہ ایضآ (أقول) وفي الفتاوى الخيرية سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته أجاب هي للابن تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه الخ(کتاب الدعوی،ج:2،ص:17 ،مط: مکتبہ حقانیہ)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0