نام رکھنے کا حکم

خدیجہ نام کسی وجہ سے تبدیل کرنا

فتوی نمبر :
97328
| تاریخ :
2026-07-10
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

خدیجہ نام کسی وجہ سے تبدیل کرنا

السلام علیکم مفتی صاحب! میری بیٹی کا نام "خدیجہ" ہے۔ کسی نے مجھے بتایا کہ ان کے طریقۂ کار کے مطابق یہ نام "گب" (gub) کے زمرے میں آتا ہے اور اس لیے مجھے اس کا نام تبدیل کر دینا چاہیے۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ آیا یہ بات درست ہے۔ جزاک اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں سائلہ کی بیٹی کا نام "خدیجہ" ام المؤمنین کا نام ہونے کی وجہ سے انتہائی بابرکت اور پسندیدہ ہے اور اسے تبدیل کرنے کی کوئی شرعی وجہ موجود نہیں ہے۔لہٰذا بلاوجہ شکوک و شبہات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبي داود: عن أبي الدرداءرضی اللہ عنہ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، ‌فاحسنوا ‌أسماءكم.( أخرج الإمام أبوداود السجستانی في ’’سننه‘‘ (باب ماجاء فی تغییر الاسماء ،ج:7،ص:303،رقم الحدیث : 4948)
وفی الفتاوی الھندیة: وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم و لا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لايفعل، كذا في المحيط الخ(الباب الثانی والعشرون فی تسمیۃ الأولاد الخ، ج 5، ص 362، مط: ماجدیة)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالقیوم قدوس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97328کی تصدیق کریں
0     30
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات