جناب عالی! میرا گھر میرے والد صاحب نے بقائم و ہوش و حواس دس(10) سال پہلے سب بہن بھائیوں سے پوچھ کر لیز کے اندر ”میں محمدصہیب خان اور میرا چھوٹا بھائی فرمان الحق خان “کے نام پر جوائنٹ لیز کروائی تھی اور اس وقت قبضہ بھی ہم دونوں کے پاس تھا ، اب والد اور والدہ کے انتقال کے بعد یہ گھر چونکہ 80 گز کا ہے ہم دونوں بھائیوں کا اور اس گھر میں کسی کا کوئی حصہ نہیں ہے ،برائے مہربانی فرما کر قران و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی کریں ۔بہت شکریہ
(نوٹ )صرف لیز ہمارے نام کرائی تھی،باقی والدین تاحیات اس مکان میں ساتھ رہتےرہے ہیں۔
واضح ہو کہ کوئی چیز محض کسی کے نام کرنے یا منہ ز بانی کسی کو دیدینے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی جب تک اسے اس چیز پر مالکانہ قبضہ نہ دیا جائے ۔لہذا صورت ِمسئولہ میں سائل کےوالد مرحوم نے اگر چہ اسی گزپرمشتمل مذکور گھرسائل(محمدصہیب خان) اور اس کے بھائی (فرمان الحق خان)کےنام کیا ہو ،لیکن اگرمرحوم نے اپنی زندگی میں اسےباقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ سائل اور اس کے چھوٹےبھائی کو حوالہ نہ کیا ہو (جیساکہ سوال سے بھی معلوم ہورہاہے)تو محض نام کرنے سے شرعاً سائل اور اس کا بھائی اس گھرکی مالک نہیں بنے ،بلکہ مذکور گھر مرحوم کی وفات تک بدستور اس کی ملکیت میں رہا ، جو کہ اب ان کے انتقال کے بعدسائل اور اس کے بھائی سمیت مرحوم کے تمام شرعی ورثاء میں حسبِ حصصِ ِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔
کمافی الدر المختار: (و) شرائط صحتھا (فی الموھوب أن یکون مقبوضا غیر مشاع ممیزا غیر مشغول) کما سیتضح إلخ( کتاب الھبۃ: ج: 5، ص: 688، ط: سعید)۔
و فی البحر: (قوله وجعلته لك) لأن اللام للتمليك ولهذا لو قال هذه الأمة لك كان هبة ولو قال هي لك حلال لا تكون هبة إلا أن يكون قبله كلام يستدل به على أنه أراد به الهبة كذا في الخلاصة قيد بقوله لك لأنه لو قال جعلته باسمك لا يكون هبة ولهذا قال في الخلاصة لو غرس لابنه كرما إن قال جعلته لابني تكون هبة وإن قال باسم ابني لا تكون هبة( کتاب الہبۃ،ج:5،ص:285،ط:دار الکتاب الاسلامی)
و فی الفتاوى التاتارخانیة: و في المنتقى عن أبي يوسف : لايجوز للرجل أن يهب لامرأته و أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارًا و هما فيها ساكنان ، و كذلك الهبة للولد الكبير ؛ لأن يد الواهب ثابتة علي الدار اھ(کتاب الھبۃ،ج:14،ص:431،ط:رشیدیۃ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0