احکام وراثت

مکان بیٹوں کے نام کرنے سے ملکیت کا حکم

فتوی نمبر :
98223
| تاریخ :
2026-08-06
معاملات / ترکات / احکام وراثت

مکان بیٹوں کے نام کرنے سے ملکیت کا حکم

جناب عالی! میرا گھر میرے والد صاحب نے بقائم و ہوش و حواس دس(10) سال پہلے سب بہن بھائیوں سے پوچھ کر لیز کے اندر ”میں محمدصہیب خان اور میرا چھوٹا بھائی فرمان الحق خان “کے نام پر جوائنٹ لیز کروائی تھی اور اس وقت قبضہ بھی ہم دونوں کے پاس تھا ، اب والد اور والدہ کے انتقال کے بعد یہ گھر چونکہ 80 گز کا ہے ہم دونوں بھائیوں کا اور اس گھر میں کسی کا کوئی حصہ نہیں ہے ،برائے مہربانی فرما کر قران و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی کریں ۔بہت شکریہ
(نوٹ )صرف لیز ہمارے نام کرائی تھی،باقی والدین تاحیات اس مکان میں ساتھ رہتےرہے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کوئی چیز محض کسی کے نام کرنے یا منہ ز بانی کسی کو دیدینے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی جب تک اسے اس چیز پر مالکانہ قبضہ نہ دیا جائے ۔لہذا صورت ِمسئولہ میں سائل کےوالد مرحوم نے اگر چہ اسی گزپرمشتمل مذکور گھرسائل(محمدصہیب خان) اور اس کے بھائی (فرمان الحق خان)کےنام کیا ہو ،لیکن اگرمرحوم نے اپنی زندگی میں اسےباقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ سائل اور اس کے چھوٹےبھائی کو حوالہ نہ کیا ہو (جیساکہ سوال سے بھی معلوم ہورہاہے)تو محض نام کرنے سے شرعاً سائل اور اس کا بھائی اس گھرکی مالک نہیں بنے ،بلکہ مذکور گھر مرحوم کی وفات تک بدستور اس کی ملکیت میں رہا ، جو کہ اب ان کے انتقال کے بعدسائل اور اس کے بھائی سمیت مرحوم کے تمام شرعی ورثاء میں حسبِ حصصِ ِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: (و) شرائط صحتھا (فی الموھوب أن یکون مقبوضا غیر مشاع ممیزا غیر مشغول) کما سیتضح إلخ( کتاب الھبۃ: ج: 5، ص: 688، ط: سعید)۔
و فی البحر: (قوله وجعلته لك) ‌لأن ‌اللام ‌للتمليك ‌ولهذا ‌لو ‌قال ‌هذه ‌الأمة ‌لك ‌كان ‌هبة ولو قال هي لك حلال لا تكون هبة إلا أن يكون قبله كلام يستدل به على أنه أراد به الهبة كذا في الخلاصة قيد بقوله لك لأنه لو قال جعلته باسمك لا يكون هبة ولهذا قال في الخلاصة لو غرس لابنه كرما إن قال جعلته لابني تكون هبة وإن قال باسم ابني لا تكون هبة( کتاب الہبۃ،ج:5،ص:285،ط:دار الکتاب الاسلامی)
و فی الفتاوى التاتارخانیة: و في المنتقى عن أبي يوسف : لايجوز للرجل أن يهب لامرأته و أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارًا و هما فيها ساكنان ، و كذلك الهبة للولد الكبير ؛ لأن يد الواهب ثابتة علي الدار اھ(کتاب الھبۃ،ج:14،ص:431،ط:رشیدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98223کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات