السلام علیکم! گزارش ہے کہ ہمارے ہاں وراثت میراث کی تقسیم کا ایک مسئلہ درپیش ہے جس پر شرعی رہنمائی درکار ہے مسئلہ درج ذیل ہے مرحوم کی وفات کے بعد وراثت کی باقاعدہ تقسیم سے پہلے مرحوم کے چھوڑے ہوئے مشترکہ پیسوں سے مرحوم کی بیوہ نے اپنے لیے سونا بنوایا تھا سونا بنواتے وقت بیوہ اور باقی تمام ورثہ کے درمیان یہ شرط طے پائی تھی اور اس پر بیوہ کی مکمل رضامندی تھی کہ جب وراثت باقاعدہ تقسیم ہوگی تو اس وقت سونے کی جو قیمت ہوگی وہ بیوہ کے حصے وراثت میراث کے حصے سے کاٹ لی جائے گی اب میراث باقاعدہ تقسیم کی جا رہی ہے اس سلسلے میں درج ذیل سوالات کی شرعی جوابات مطلوب ہے کیا بے وقت حصے سے سونے کی قیمت کاٹنے کے لیے خریداری کے دن کا ریٹ لگایا جائے گا یا اج تقسیم کے دن کا موجودہ مارکیٹ ریٹ شمار ہوگا شرعی اصول کے مطابق اس سونے کی قیمت کا تعین کس طرح کیا جائے گا تاکہ کسی بھی وارث کی تلفی نہ ہو نوٹ سونا بناتے وقت ترکم تقریبا سات لاکھ روپے لیا تھا اور اس کا سونا بنایا تھا ۔
صورت مسؤلہ میں اگر مرحوم کی بیوہ کو تقسیم میراث سے قبل مرحوم کی مشترکہ میراث میں سے تمام ورثاء کی رضامندی سے کیش رقم مبلغ سات لاکھ روپے دئیے گئے ہو تو وہ رقم ہی بیوہ کے ذمے قرض شمار ہوگی، اور اب تقسیم میراث کے وقت اتنی ہی رقم اس کے ذمے واپس کرنا یا اس کے حصہ میراث میں شمار کرنا لازم ہے، اس رقم کے ذریعہ خریدے گئے سونے کی موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی ردالمحتار: )تحت قولہ: مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها،قلت: والجواب الواضح أن يقال قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها أي إذا دفع الدين إلى دائنه ثبت للمديون بذمة دائنه مثل ما للدائن بذمة المديون،اھ(كتاب الأيمان،ج: 3،ص: 789،مط: دارالفکر)
و فی تبیین الحقائق: الديون تقضى بأمثالها على معنى أن المقبوض مضمون على القابض؛ لأنه قبضه لنفسه على وجه التملك ولرب الدين على المدين مثله،اھ({كتاب الأيمان:ج: 3،ص:162،مط: دارالکتاب الاسلامی)
و فیہ ایضاً: وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها، وكذلك كل ما يكال ويوزن فالقرض فيه جائز،وكذلك ما يعد من البيض والجوز اهـ وفي الفتاوى الهندية: استقرض حنطة فأعطى مثلها بعدما تغير سعرها يجبر المقرض على القبول، اھ(باب المرابحة والتولية،فصل في القرض،ج: 5،ص: 162،مط: دارالفکر)
و فیہ ایضاً: فإذا استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا، وأما بدون ذلك فهو ربا لأنه مجازفة،اھ(باب الربا،مطلب في استقراض الدراهم عددا،ج: 5،ص: 177،مط: دارالفکر)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0