میری راہ نمائی فرمائیں کہ اگر شوہر اپنی بیوی پر جھوٹے الزامات لگائے اور مار پیٹ کرے، خرچہ بھی نہ دے اور صرف اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل اور وہ بھی انتہا کو پہنچی ہوئی ہوں ،اور ان تمام باتوں میں سسرال والے بھی لڑکی کی حمایت کرتے ہوں تو اس صورت میں بیوی خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے؟
واضح ہو کہ مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے سوال کے صدق و کذب کی اصل ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے ، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ اگر سوال میں مذکوربات واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کے جھوٹ یا مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو تو خاوند کا رویہ شرعاً درست نہیں، وہ حقوق واجبہ کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہے، اُسے اپنے اس ناجائز طرز عمل سے احتراز لازم ہے، اگر وہ باز نہ آئے تو اس معاملہ میں اول تو خاندان کے بڑوں کو چا ہیئے کہ وہ اس کو سمجھا کر ادائیگی حقوق اور مذکور رویہ کے ترک پر آمادہ کریں ، اگر اس سب کچھ کے باوجودوہ اپنی روش پر قائم رہے تو عورت خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے اور اس صورت میں خاوند کیلئے بدل خلع لینا بھی جائز نہ ہوگا ۔
قال لله تعالى : فان خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من اهله وحكماً من اهلها ان يريدا اصلاحا يوفق الله بينهما الآية ( النساء : ۳۵) -
وفی الدر : ( وكره) تحريماً (اخذ شي) ويلحق به الابراء عمالها عليه (ان نشز وان نشز ت الخ (3/445)۔والله اعلم بالصواب