السلام علیکم ! مفتی صاحب! میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک شخص جنابت کے بعد عام حالات میں زیادہ سے زیادہ کتنی دیر تک غسل کر سکتا ہے؟
اس کے لیے کوئی وقت مقرر تو نہیں، البتہ جنابت کے بعد جلد سے جلد غسل کرنا اولیٰ اور افضل ہے، اور بلا ضرورت محض سستی اور کاہلی سے غسل میں تاخیر کرنا مکروہ ہے، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی سنن أبي داود: عن عليٍّ، عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قال: "لا تَدخُلُ الملائكةُ بَيتاً فيه صُورةٌ ولا كلبٌ ولا جُنُبٌ" اھ (1/ 162)
وفي صحيح مسلم: عن عائشة: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أراد أن ينام، وهو جنب، توضأ وضوءه للصلاة، قبل أن ينام» اھ (1/ 248)
وفي إعلاء السنن: فالأولى أن يقال إن تأخير الغسل خلاف الأولى وتعجيلة افضل وتاخيره ما كان لبيان الجواز وأما حديث على "لا يدخل الملائکة بيتا فیه جنب" فحمله العلماء على من يتهاون بالغسل ويتعد تركة عادة، لاعلی من يؤخر الاغتسال إلى حضور الصلاة اھ( ۱/ ۱۶۸ ) واللہ اعلم