میں غیر شادی شدہ ، یونیورسٹی کا طالبعلم ہوں ، ہر سال ہمارے یونیورسٹی کے مخصوص طلباء انعامی طور پر دو مہینے (Intership) ’’ کورس‘‘ کے لیے ساؤتھ کوریا جاتے ہیں۔ میں نے نیٹ میں سرچ کیا کہ ساؤتھ کوریا دار الکفر کا امریکہ کے ساتھ بہت تعلقات ہیں، تقریبا ً۔ 28000 ہزار امریکی فوجی کو ریا میں موجود ہیں اور کئی کورین فوجی عراق گئے تھے ، چنانچہ ساؤتھ کوریا کے سیاسی ، فوجی اور معاشی تعلقات اور تعاون امریکہ کے ساتھ ہیں اور امریکہ دارالحرب ہے ، اسی وجہ سے ساؤتھ کو ریا بھی امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون کی وجہ سے دارالحرب کہلائے گا ؟ کیا میرے لیے جائز ہے کہ ساؤتھ کوریا میں جاکر کورس کروں ؟ اس میں کوئی دینی مصلحت شامل نہیں ہے ۔مہربانی کر کے وضاحت کریں کیونکہ میرا نفس مجھے آمادہ کر رہا ہے کہ میں اس کو حاصل کروں اور وہاں جاؤں اگر جائز ہوا ؟
محض کسی کورس کے لیے جانے میں حرج نہیں، خاص کر اس صورت میں جب اس مدت کے دوران اپنے فارغ اوقات کو غیر تعلیمی مشاغل میں صرف کرنے کے بجائے اپنے اعمال کی درستگی اور دعوت جیسے ماحول میں گزارنے کی فکر کی جائے، اور اگر اپنے نفس پر اعتماد نہ ہو اور شادی شدہ بھی نہ ہو یا دشمنانِ اسلام کا آلہ کار بننے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں وہاں جانے سے احتراز لازم ہے۔
ففی سنن أبي داود؛ عن سمرة بن جندب، أما بعد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من جامع المشرك وسكن معه فإنه مثله» اھ (3/ 93)
وفی بذل المجهود في حل سنن أبي داود: (فإنه مثله) نقل في الحاشية عن "فتح الودود": فإنه مثله، أي: يقارب أن يصير مثلا له لتأثير الجوار والصحبة، ويحتمل أنه تغليظ اھ (9/ 525)۔
مسجد میں فضائلِ اعمال کی تعلیم اور درسِ قرآ ن کے سلسلے میں تقابل و ٹکراؤ کی فضا بنانا
یونیکوڈ متفرقات 0