کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زیرِ ناف بال کاٹنے کی کیا حد ہے؟ کیا ناف سے نیچے کے سارے بال کاٹنے چاہئیں یا پھر صرف مثانے کی جگہ کے ارد گرد کے کاٹنے چاہئیں؟ مہربانی فرماکر مکمل حدود بتادیں۔ شکریہ
زیرِ ناف بالوں کی صفائی کی حدود یہ ہیں کہ اُکڑوں بیٹھنے کی صورت میں ناف کے نیچے جو پہلا بَل پڑتا ہے اس سے لے کر عضو تناسل، خصیتین، دُبر اور ان کے اردگرد اور رانوں کے وہ بال جن کے گندگی سے بھرنے کا اندیشہ ہو ، ان سب کو ہفتہ میں ایک مرتبہ صاف کرنا مستحب ہے، ورنہ پندرہ دن میں ایک مرتبہ صفائی کا اہتمام کرنا چاہئے۔
قال ابن عابدینؒ: فی فصل فی الحرام: والعانۃ الشعر القریب من فرج الرجل والمرأۃ ومثلہا شعر الدبر بل ہو اولٰی بالإزالہ لئلّا یتعلّق بہٖ شیٔ من الخارج عند الاستنجاء بالحجر۔ اھـ (ج۲، ص۴۸۱)-
وفی الدر: (و) یستحب (حلق عانتہ وتنظیف بدنہ بالاغتسال فی کل (اسبوع مرۃ) والافضل یوم الجمعۃ وجاز فی کل خمسۃ عشر وکرہ ترکہ وراء الاربعین۔ الخ
وفی الرد: (قولہ ویستحب حلق عانتہ) قال فی الہندیہ ویبتدیٔ من تحت السرّۃ ولو عالج بالنورۃ۔ الخ (ج۶، ص۴۰۶)-