کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قبر پر پانی بہانے کی شرعی حیثیت کیا ہے آیا کہ کیا احادیثِ مبارکہ میں قبر پر پانی ڈالنے سے متعلق نبی کریم ﷺ کا کوئی فعل یا قول وارد ہے یا نہیں؟ براہِ کرم سنتِ رسول ﷺ کی روشنی میں مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
قبر پر اتنا پانی بہانا کہ جس سے میت اور قبر کو نقصان ہو اور اس کی مٹی بھی بہہ جائے قطعاً ثابت اور جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے البتہ اگر محض چھڑکنا مقصود ہو تا کہ کچی مٹی مضبوط ہوجائے تو یہ امر بلاشبہ جائز اور آپ ﷺ سے بھی ثابت ہے۔
فی المرقاۃ: تحت : عن جعفر بن محمد عن ابیہ مرسلا ان النبی ﷺ رش علی قبر ابنہ ابراہیم و وضع علیہ حصبا ء الخ (رش) ای الماء (علی قبر ابنہ ابراہیم)قال ابن الملک : ویسن حیث لا مطر رش القبر بماء بارد طاہر و طہور ، تفاؤ لا بان اﷲ یبرد مضجعہ (الی قولہ )وری البزار! أنہٗ امر بالرش فی قبر عثمان بن مظعون۔ (ج۴، ص۱۸۸۔ ۱۸۹)۔
وفیہ ایضًا: تحت الحدیث : عن جابر قال رش قبر النبی ﷺ و کان الذی رش الماء علی قبرہ بلال بن رباح بقربۃ بدء من قبل رأسه حتی انتہی الٰی رجليه الخ :قال الطیبی لعل ذالک اشارہ الٰی استنزال الرحمۃ الإلہیۃ و العواطف الربانیۃ (الی قولہ )قَالَ مِيرَكُ: وَلَعَلَّ الْحِكْمَةَ فِيهِ أَنَّ الْقَبْرَ اذا رش بالماء کان اکثر بقاء و ابعد عن التناثر والاندراس۔ (ج۴، ص۱۹۰)۔
وفی سنن ابن ماجہ عن ابی رافع قال سلّ رسول اﷲ ﷺ سعدا ورش علی قبرہ ماء۔ (ص۱۱۱)۔
وفی الشامیہ: ولا بأس برش الماء علیہ(الی قولہ ) بل ینبغی ان یندب۔ (ج۲، ص۲۳۷)۔