کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص خود کرسی پر بیٹھ کر طلباء کو زمین پر بٹھا کر قرآنی سورتیں، کتابیں کھلوا کر پڑھاتا ہے، اس میں بے ادبی کا پہلو ہےیا نہیں؟ شرعاً کیا حکم ہے؟
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی مقدّس کتاب ہے جس کا ادب و احترام ہر مسلمان پر واجب ہے اور اس کی بے ادبی اور توہین دنیا و آخرت میں خسارے اور نقصان کا باعث ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں قرآنی سورتوں کی بے ادبی کا پہلو نمایاں ہونےکی وجہ سے مذکور مدرس پر لازم ہے کہ اس ناجائز فعل سے احتراز کرے اور نیچے بیٹھ کر یا طلباء کو بھی کرسیاں فراہم کر کے تعلیم کی صورت بنائے۔
ففی الدر المختار: (ويكره) تحريما (استقبال القبلة بالفرج) ولو (في الخلاء) بالمد: بيت التغوط، وكذا استدبارها (في الأصح كما كره) لبالغ (إمساك صبي) ليبول (نحوها، و) كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي عمدا لأنه إساءة أدب قاله منلا ناكير (أو إلى مصحف أو شيء من الكتب الشرعية إلا أن يكون على موضع مرتفع عن المحاذاة) فلا يكره۔(1/ 655)۔