کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ کیا ایک عورت ماہواری کے ایام( حیض کے ایام) میں قرآن چھوئے بغیر انٹرنیٹ کے ذریعہ حفظ کر سکتی ہے؟
۲۔ ایامِ حیض میں کیا وہ زبانی قرآن پڑھ سکتی ہے یا انٹرنیٹ کے ذریعہ دیکھ کر؟
۳۔ کیا کوئی آدمی بغیر وضو کے انٹرنیٹ کے ذریعہ قرآن کی تلاوت کر سکتا ہے؟
دورانِ حیض حائضہ عورت کے لیے جیسے قرآن کریم کو چھونا ناجائز و حرام ہے اسی طرح اس کی تلاوت بھی ممنوع ہے خواہ بوقتِ تلاوت قرآن کریم کو چھوئے یا زبانی پڑھے یا ٹی وی وغیرہ پر دیکھ کر، سب صورتوں کا حکم برابر ہے، البتہ اگر وہ بصورت ِتقطیع پڑھے اس طور پر کہ بجائے پوری آیت ایک سانس میں پڑھنے کے اس آیت کے ہر کلمہ کو الگ الگ سانس میں پڑھے، مثلاً ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ پوری آیت ایک سانس میں نہ پڑھے، بلکہ ’’الحمد للہ‘‘ الگ سانس میں ’’رب العالمین‘‘ الگ سانس میں پڑھے تو اس کی گنجائش ہے۔
جبکہ محض بے وضو ہونے کی حالت میں زبانی یا کسی سکرین وغیرہ پر دیکھ کر تلاوتِ قرآن کریم کرنا جائز اور درست ہے، اگرچہ چھونا اس صورت میں ممنوع ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: (ومنها) حرمة قراءة القرآن لا تقرأ الحائض والنفساء والجنب شيئا من القرآن والآية وما دونها سواء في التحريم على الأصح إلا أن لا يقصد بما دون الآية القراءة مثل أن يقول الحمد لله يريد الشكر أو بسم الله عند الأكل أو غيره فإنه لا بأس به. هكذا في الجوهرة النيرة ولا تحرم قراءة آية قصيرة تجري على اللسان عند الكلام كقوله تعالى ﴿ثم نظر﴾ (المدثر: 21) أو ﴿ولم يولد﴾ (الإخلاص: 3) . هكذا في الخلاصة. (1/ 38)
وفي شرح فتح القدير: ووجهه أن ما دون الآية لا يعد بها قارئا قال تعالى ﴿فاقرؤوا ما تيسر من القرآن﴾ كما قال - صلى الله عليه وسلم - لا يقرأ الجنب القرآن فكما لا يعد قارئا بما دون الآية حتى لا تصح بها الصلاة كذا لا يعد بها قارئا فلا يحرم على الجنب والحائض وقالوا إذا حاضت المعلمة تعلم كلمة كلمة وتقطع بين الكلمتين وعلى قول الطحاوى نصف آية اه(1/ 168)
و فی الدر المختار: (و) يحرم (به) أي بالأكبر (وبالأصغر) مس مصحف: أي ما فيه آية كدرهم وجدار، (إلی قوله)ٰ (إلا بغلاف متجاف) (إلی قوله) (ولا يكره النظر إليه) أي القرآن (لجنب وحائض ونفساء) لأن الجنابة لا تحل العين (ك) ما لا تكره (أدعية) أي تحريما، وإلا فالوضوء لمطلق الذكر مندوب، وتركه خلاف الأولى اھ (1/ 173،174) والله أعلم بالصواب!