کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بہنوئی کہتے ہیں کہ کسی بھی صورت میں ایک عورت فتویٰ نہیں دے سکتی اور میرا خیال یہ ہے کہ دے سکتی ہے ، براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
چاروں ائمہ ( یعنی امام اعظم ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ ) کا اس پر اتفاق ہے کہ فتویٰ دینے والے کا مرد ہونا شرط نہیں، بلکہ عورت بھی فتویٰ دے سکتی ہے اور خود دورِ صحابہ و تابعین اور تبِع تابعین سے بھی خواتین کے کثیر فتاویٰ کتبِ احادیث میں منقول و ماثور ہیں۔
لہٰذا سائلہ کے بہنوئی کا مذکور قول قطعاً غلط ، دین سے دوری اور جہالت پر مبنی ہے، اسے چاہیے کہ بلاتحقیق مسائلِ شرعیہ بیان کرنے اور جائز کو ناجائز قرار دینے سے مکمل احتراز کرے اور مواخذۂ اُخروی سے سبکدوشی حاصل کرے۔
ففی إعلام الموقعين: و الذين حُفِظَتْ عنهم الفتوى من أصحاب رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم- مئة و نَيِّف وثلاثون نفسًا، ما بين رجل و امرأة، وكان المكثرون منهم سبعة: عمر بن الخطاب، و عليّ بن أبي طالب، و عبد اللَّه بن مسعود، و عائشة أم المؤمنين، و زيد بن ثابت، و عبد اللَّه بن عَبَّاس، و عبد اللَّه بن عمر اھ(2/ 18)۔
و فی المجموع شرح المهذب: شرط المفتى كونه مكلفا مسلما ثقة مأمونا متنزها عن أسباب الفسق و خوارم المرؤة فَقِيهَ النَّفْسِ سَلِيمَ الذِّهْنِ رَصِينَ الْفِكْرِ صَحِيحَ التَّصَرُّفِ وَ الِاسْتِنْبَاطِ مُتَيَقِّظًا سَوَاءٌ فِيهِ الْحُرُّ وَ الْعَبْدُ وَ الْمَرْأَةُ وَ الْأَعْمَى وَ الْأَخْرَسُ إذَا كَتَبَ أَوْ فُهِمَتْ اشارته: قال الشيخ أبو عمرو بن الصَّلَاحِ وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ كَالرَّاوِي فِي أَنَّهُ لَا يُؤَثِّرُ فِيهِ قَرَابَةٌ وَ عَدَاوَةٌ وَ جَرُّ نَفْعٍ وَ دَفْعُ ضُرٍّ لِأَنَّ الْمُفْتِيَ فِي حُكْمِ مُخْبِرٍ عَنْ الشَّرْعِ بِمَا لَا اخْتِصَاصَ لَهُ بِشَخْصٍ فَكَانَ كَالرَّاوِي لَا كَالشَّاهِدِ وَ فَتْوَاهُ لَا يَرْتَبِطُ بِهَا إلْزَامٌ اھ(1/ 41)۔
و فی الفقه الإسلامي و أدلته: و قال ابن جرير الطبري: يجوز أن تكون المرأة حاكماً على الإطلاق في كل شيء، لأنه يجوز أن تكون مفتية فيجوز أن تكون قاضية اھ(8/ 5937)۔
و أیضاً فی الفقه الإسلامي و أدلته للزحيلي: و أجاز ابن جرير الطبري قضاء المرأة في كل شيء لجواز إفتائهااھ(8/ 6239)۔