کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں پاکستان میں میڈیکل کی طالبہ ہوں ، الحمد اللہ میں اپنی یونیورسٹی میں نقاب کرتی ہوں تو کیا میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نقاب کے ساتھ یونیورسٹی جو کہ ’’کوایجوکیشن‘‘ہے پڑھ سکتی ہوں؟
خواتین کے لیے میڈیکل کی تعلیم کا حصول اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ وہ کالج میں بھی پردہ کا مکمل اہتمام کریں اور لڑکیوں کی کلاسز مخلوط نہ ہوں اور کالج میں آمدرورفت کا راستہ بھی مامون ہو۔
ففی الدر المختار: ينظر) الطبيب (إلى موضع مرضها بقدر الضرورة) إذ الضرورات تتقدر بقدرها وكذا نظر قابلة وختان وينبغي أن يعلم امرأة تداويها لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف. (6/ 370)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وينبغي إلخ) كذا أطلقه في الهداية والخانية. وقال في الجوهرة: إذا كان المرض في سائر بدنها غير الفرج يجوز النظر إليه عند الدواء، لأنه موضع ضرورة، وإن كان في موضع الفرج، فينبغي أن يعلم امرأة تداويها فإن لم توجد وخافوا عليها أن تهلك أو يصيبها وجع لا تحتمله يستروا منها كل شيء إلا موضع العلة ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن موضع الجرح اهـ فتأمل(6/ 371)والله أعلم بالصواب!