میں" ۔۔۔۔ " میں کام کرتا ہوں ،یہ ایک امریکن کمپنی ہے ،کچھ دن پہلے" ۔۔۔۔کمپنی" نے کچھ ڈاکٹرز کو ایک "ٹریننگ پروگرام " کے لیے سعودیہ عربیہ (جدّہ) بھیجا ،پروگرام کے بعد ڈاکٹر ز نے عمرہ کیا، کیا ڈاکٹرز کا اس طرح جانا ٹھیک ہے ؟ اس عمرہ کا ثواب ڈاکٹرز کو ملے گا یا نہیں ؟
اگر ان ڈاکٹر حضرات کے عمرہ پر جانے سے کمپنی انتظامیہ کو اعتراض نہ ہو یا انہوں نے کمپنی کے کام سے فراغت پر اپنے ذاتی اخراجات پر عمرہ کیا ہو تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں،یہ عمرہ بلاشبہ درست ادا ہوا ہے ، اور اگر اس کے علاوہ صورتِ حال ہو تو اس کی مکمل وضاحت کے بعد سوال دوبارہ ای میل کرسکتے ہیں ۔
کما الرد تحت : (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أیضاً. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى اھ (3/310)۔
و فی الہدایۃ : والأجير الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم" وإنما سمي أجير وحد؛ لأنه لا يمكنه أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له اھ (3/243)۔