کیا مکہ میں جاکر عمرہ کی نیت کیے بغیر حرم شریف میں نماز پڑھنا درست ہے ؟ کیا میری بیوی حالتِ حیض میں عمرہ کی نیت کیے بغیر مکہ کی زیارت کر سکتی ہے ؟
حدودِ حرم اور میقات کے اندر رہتے ہوئے حرم میں نماز کی ادائیگی کے لیے عمرہ کی نیت کر ناضر دری نہیں، اس کے بغیر بھی نماز درست ادا ہو جاتی ہے، البتہ جو لوگ میقات سے باہر رہتے ہیں ان کے لئے بلا احرام میقات سے گزر کر حرم جانا جائز نہیں۔جبکہ حائضہ کے لئے بھی میقات سے تجاوز کا یہی حکم ہے،نیز اس حالت میں اس کا مسجدِ حرام میں داخل ہونا جائز نہیں۔
کما فی الدر ( وحرم تأخير الإحرام) عنها كلها (لمن )ای للآفاقی ( قصد دخول مكة) يعني الحرم ( ولو لحاجة) غير الحج اھ (477/2)۔
وفیه أیضاً : ويجب على من دخل مكة بلا احرام ) لكل مرة (حجة أو عمرة ) اھ(583/2)۔
وفی الدر. ويمنع حل ( دخول مسجد و) حل (الطواف) ولو بعد دخولها المسجد وشروعها فیه اھ (291/1)۔