ہمارے علاقہ میں جب کوئی مرتا ہے تو جنازہ ادا کرنے کے بعد ہمارے امام اس میت کے لیے ایک قسم کی دعا کرتے ہیں، اس کی صورت یہ ہے کہ امام صاحب کے ساتھ چند بزرگ اشخاص مل کر ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ کر قرآن پاک لایا جاتا ہے اور مولوی صاحب فارسی یا اردو میں ایک دعا پڑھتے ہیں اور پھر قرآن کریم ایک دوسرے کو دیتے رہتے ہیں، اس طرح مولوی صاحب تین دفعہ کرتے ہیں اور قرآن کریم کے حیلہ کے بعد غرباء اور مساکین میں وارثوں کی طرف سے کچھ رقم بھی تقسیم کی جاتی ہے، یہ سارا کام میت کی مغفرت کے لیے کیا جاتا ہے، قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔
سوال میں مذکور طرز حیلہ( جو بعض لوگوں میں مروّج ہے کہ ہر مرنے والے شخص سے متعلق کیا جاتا ہے) اور اعمال تجہیز کا حصہ سمجھا جاتا ہے، اس کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں، جس سے خود بچنے اور دوسروں کو بھی حکمت و بصیرت کےساتھ بچانے کی ضرورت ہے۔
ففی مجموعة رسائل ابن عابدین: ويجب الاحتراز من أن يديرها أجنبي إلابوكالة كما ذكرنا، أو أن يكون الوصى أو الوارث كما علمت، ويحب الاحتراز من أن يلاحظ الوصى عند دفع الصرة للفقير أو الحیلةو بل يجب أن يدفعها غازما على تمليكها من حقيقة لا تحيلا ملاحظا أن الفقير إذا أبى عن هبتها إلى الوصي كان له ذلك ولا يجبر على الهبة. ويجب أن يحترز عن كسر خاطر الفقير بعد ذلك، بل يرضيه بما تطیب نفسه کما قدمناه اھ (۱/ ۳۴۴)