اگر شادی کی پہلی رات ہی بیوی کو حیض آجائے ،تو کیا حکم ہے؟ کیا شوہر کو سات روز تک مباشرت کے لئے انتظار کرنا ہوگا؟
جی ہاں! ایسی صورت میں مباشرت جائز نہیں، تاوقتیکہ حیض ختم نہ ہوجائے، البتہ ناف اور گھٹنوں کے درمیانی حصے کے علاوہ جسم کے باقی حصے سے استمتاع شرعاً ممنوع نہیں اور اگر درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ حائل ہو ،تو ایسی صورت میں ناف اور گھٹنوں کے درمیانی حصے سے بھی استمتاع جائز ہے۔
کمافی الهندیة: (ومنها) حرمة الجماع هكذا في النهاية والكفاية وله أن يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند أبي حنيفة وأبي يوسف هكذا في السراج الوهاج فإن جامعها وهو عالم بالتحريم فليس عليه إلا التوبة والاستغفار ويستحب أن يتصدق بدينار أو نصف دينار كذا في محيط السرخسي.اھ (1/ 39)
وفی الشامیة: (قوله یعنی ما بین سرة ورکبة) فیجوز الاستمتاع بالسّرة وما فوقها والرکبة وما تحتها ولو بلا حائل وکذا بینهما بحائل بغیر الوطئ ولو تلطخ دمًا اھ(292/1)