اگر کوئی کراچی سے عمرے کا احرام نہ باندھے اور جدّہ یا میقات سے احرام باندھنا چاہے تو کیایہ جائز ہے ؟
کراچی سے جدہ جانے اور وہاں کچھ وقت کے لیے ٹھہرنے کی نیت نہ ہو، بلکہ براہ راست عمرہ پر ہی جانے کا ارادہ ہو تب بھی کراچی سے عمرہ کا احرام باندھناضروری نہیں ، البتہ میقات سے پہلے احرام کا باندھنا واجب ہے، پھر پاکستان سے حج یا عمرہ کے لیے بذریعہ ہوائی جہازجانے والوں کی میقات قرن المنازل ہے اور جدہ ایئر پورٹ پر اترنے سے پہلے جہاز مذکور میقات کے محاذات میں آجاتا ہے، اس لیے ایسے معتمرین کو چاہیے کہ وہ جہاز کے عملہ سے معلوم کر کے میقات آنے سے پہلے ہی عمرہ کی نیت کر لیں تا کہ میقات سے بغیراحرام گزرنے کی بنا پر دم لازم نہ ہو۔
كما فی البدائع : أهل الأفاق وهم الذين منازلهم خارج المواقيت التي وقت لہم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي خمسة كذا روى فی الحديث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقت لأهل المدينة ذا الحليفة ولأهل الشام الجحفة واہل نجد قرن ولأهل اليمن يلملم ولأهل العراق ذات عرق وقال صلى الله عليه وسلم هن لأهلهن ولمن مر بهن من غير أهلهن ممن اراد الحج والعمرة اھ( ج ٢/١٦٤) ۔
وفی الفقه الإسلامي وأدلۃ : لا يجوز للإنسان ان يجاوز الميقات إلا محرما بحج أو عمرة والا وجب عليه دم أو العود اليه فان قدم الاحرام على الميقات جاز اھ(68/3)۔