میرے والد صاحب اس قابل نہیں کہ میں انہیں عمرہ پر لے جاسکوں ، کیا میں ان کی جگہ اپنی چھوٹی بہن کو عمرہ کروا سکتا ہوں ؟
عمرہ کرنا تو ویسے بھی فرض و واجب نہیں، بلکہ ایک مسنون عمل ہے اور اس کے لیے سائل کا خود جانا اور بہن وغیرہ کسی کو بھی لے جانا جائز ہے ، جبکہ سائل خود یا کوئی دوسرا شخص عمرہ ادا کرنے کے بعد اس کا اجر و ثواب اپنے والد یا کسی بھی دوسرے زندہ یا مردہ کو بخشنا چاہے تو یہ بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
كما فی الهداية : الأصل فی هذا البناء أن الانسان له يجعل ثواب عمله لغيره صلاة صوماً أو صدقة أو غيرها عند أهل السنة والجماعة اھ(296/1).
وفی الشامية : صرح علماءنا فی باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا فی الهداية ( إلى قوله) وفی البحر منصام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز ويصل ثوابهاإليهم عند أهل السنة اھ(243/2)۔