میں جنوبی امریکہ میں رہتا ہوں، الحمدللہ ہمارے یہاں ایک مسجد ، اسلامی سکول اور مرکز ہے ، میں نے اپنا درسِ نظامی پاکستان میں مکمل کر لیا ، میرا سوال تحیۃ المسجد اور تحیۃ الوضو کے متعلق ہے , یہ بات تو واضح ہے کہ ہم فجر اور عصر کی فرض نماز کے بعد کسی قسم کی نفل نماز ادا نہیں کر سکتے ، لیکن کیا فجر اور عصر کے اوقات میں فرض نماز ادا کرنے سے پہلے ہم تحیۃ المسجد ادا کر سکتے ہیں؟ یعنی جب ہم فجر اور عصر کی اوقات داخل ہونے کے بعد مسجد میں جاتے ہیں۔
فجر کے وقت فرض ادا کرنے سے پہلے دو رکعت سنت کے علاوہ ’’تحیۃ المسجد‘‘ یا دیگر نوافل پڑھنا جائز نہیں، بلکہ اس وقت ذکر میں مشغول رہے، جبکہ عصر کے وقت نمازِ عصر سے قبل یہ نوافل پڑھ سکتے ہیں۔
فی صحيح مسلم : عن ابن عمر ، عن حفصة ، قالت : «كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا طلع الفجر ، لا يصلي إلا ركعتين خفيفتين». اھ (1/ 500)-
و فی سنن أبي داود : عن ابن عمر ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : «رحم الله امرأ صلى قبل العصر أربعا» اھ (2/ 23)-
و فی الفتاوى الهندية : تسعة أوقات يكره فيها النوافل و ما في معناها لا الفرائض . (إلی قوله) منها ما بعد طلوع الفجر قبل صلاة الفجر . كذا في النهاية و الكفاية يكره فيه التطوع بأكثر من سنة الفجر . اھ (1/ 52)-
و فی حاشية ابن عابدين : من دخل المسجد و لم يتمكن من تحية المسجد إما لحدث أو لشغل أو نحوه يستحب له أن يقول "سبحان الله، و الحمد لله ، و لا إله إلا الله ، والله أكبر" اھ (2/ 19)
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0