اگر رشتہ داروں یا بہنوئی سے ادھار لےکر عمرہ کیا جائے ،تو کیا عمرہ ہو جائے گا ؟ کیا اسلام اسکی اجازت دیتا ہے ؟
اگر چہ ایسی صورت میں عمرہ ادا ہو جاتا ہے،مگر یہ محض ایک نفلی عبادت ہے، اس کے لیے قرض لینا ضروری نہیں،تاہم جب قرض لے لیا ہے ،تو بر وقت واپسی کا اہتمام ضروری ہے۔
کما فی الرد تحت : (قوله والعمرة فی العمر مرة سنة مؤكدة) أي إذا أتى بها مرة فقد أقام السنة غير مقيد بوقت غير ما ثبت النهي عنها فیه إلا أنها فی رمضان أفضل هذا إذا أفردها فلا ينافیه أن القران أفضل لأن ذلك أمر يرجع إلى الحج لا العمرة اھ (2/ 472)۔
و فی الدر : (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة اھ (5/ 161)۔