میری بیوی میرے ماں باپ کے ساتھ عمرہ کے لیے جارہی ہے، میرا سوال یہ ہے کہ میری بیوی میرے نام پر ایک عمرہ کر سکتی ہے یا نہیں ؟
جی ہاں ! بیوی بھی اپنے شوہر کی طرف سے عمرہ کر سکتی ہے۔
كما فی الرد :صرح علماءنا فی باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب صلوة أو صوما أو صدقة أو غيرها (إلى قوله) من صام أو صلى او تصدق۔۔۔ ويصل ثوابها إليهم جاز عند أهل السنة والجماعة كذا فی البدائع، ثم قال، وبهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المحمول له مینا أو حيا والظاهر أنه لا فرق بين أن ينوى به عند الفعل للغير أو يفعله لنفسه ثم بعد ذالك يجعل ثوابه لغير الإطلاق كلامهم وأنه لا فرق بين الفرض والنقل اھ (٢/٢٤٣)۔