میں اپنے شوہر سے خلع لینا چاہتی ہوں اور اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہیکہ میں اسے پسند نہیں کرتی ہوں، میں اپنے فرض کی مکمل فرمانبرداری نہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے سزا نہیں لینا چاہتی، اس کے علاوہ وجہ یہ ہیکہ وہ نمازہ نہیں پڑھتا ، میں نے ایک روایت پڑھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ سلم نے حضرت ثابت بن قیس کی بیوی کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ اگر اسے پسندنہیں کرتی تو خلع لے لے ۔
اولاً سائلہ کو چاہیے کہ اگر شوہر میں کوئی واقعی شرعی عیب نہ ہو ،تو محض قلبی پسند یا نماز نہ پڑھنے کو بنیاد بنا کر اپنے ہنستے بستے گھر کو بربادکرنے کے بجائے اس کو بنانے اور آباد کرنے کی فکر کرے، تاہم اگر واقعی عذر ہو اور نباہ کی کوئی صورت کار گرثابت نہ ہو،توایسی صورت میں شوہر سے خلع کا مطالبہ کرنے کی بھی گنجائش ہے ۔
کما فی فقہ الاسلامی : الخلع جائز لا بأس به عند أكثر العلماءلحاجة الناس إليه بوقوع الشقاق والنزاع وعدم الوفاق بين الزوجين (الی قوله) وأما السنة: فحديث ابن عباس: «أن امرأة ثابت بن قيس جاءت إلى رسول الله صلّى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إني ما أعيب عليه في خلُق ولا دين، ولكني أكره الكفر في الإسلام، فقال رسول الله صلّى الله عليه وسلم: أتردّين عليه حديقته؟ قالت: نعم، فقال رسول الله صلّى الله عليه وسلم: اقبل الحديقة، وطلِّقها تطليقة» فهي لا تريد مفارقته لسوء خلقه ولا لنقصان دينه، وإنما كرهت كفران العشير، والتقصير فيما يجب له بسبب شدة البغض له، فأمرها النبي صلّى الله عليه وسلم أمر إرشاد وإصلاح لا إيجاب برد بستانه الذي أمهرها إياه، وهو أول خلع وقع في الإسلام، وفيه معنى المعاوضة اھ (7 /482)