کیا ایک عورت عمرہ ادا کرنے کے لیے پاکستان سے اکیلی جا سکتی ہے؟ جبکہ اسے کسی قسم کے فتنہ کا بھی اندیشہ نہ ہو ، اور آج کل 2 سے 3 گھنٹے کے اندر ہوائی جہاز کے ذریعے سفربا آسانی ہو جاتا ہے اور جس عورت کو جانا ہے وہ بے تحاشا شوق رکھتی ہے، لیکن کوئی محرم جانے کو تیار نہیں ۔
عمرہ پر جانا کوئی فرض، واجب نہیں اور بغیر محرم سفر کرنا حرام ہے، اسلیے مذکورخاتون کو چاہیے کہ محض ایک نفلی عبادت انجام دینےکے لیے گناہ کا ارتکاب نہ کرے،ورنہ کسی محرم کی معیت میں اس کا اہتمام کرے ۔
کما فی الرد : والسفر لغة قطع المسافة من غير تقدير، والمراد سفر خاص وهو الذي تتغير به الأحكام من قصر الصلاة (الی قوله ) وحرمة الخروج على الحرة من غير محرم ط عن العناية. اھ(2/120)۔