اکثر میرے ذہن میں بہت سوالات سوچنے آتی ہیں کہ میں تو سوچ کر ہی کانپ جاتی ہوں، استغفراللہ کا ورد کرنے لگتی ہوں اور خود کو کسی نا کسی کام میں مصروف کرتی ہوں تو کیا اس سے میرے ایمان میں فرق پیدا ہو گیا یا میں دائرہ اسلام سے خارج ہوگئی ؟
ذہن میں بے اختیار وساوس اور مختلف قسم کے سوالات آنا ،چاہے وہ کفریہ خیالات ہی کیوں نہ ہوں ،ان سے آدمی نہ گناہ گار ہوتا ہے اور نہ ہی اسلام سے خارج ہوتا ہے، بلکہ اس قسم کے وساوس کا برا لگناا ایمان کی علامت ہے ،لہٰذا سائلہ کو بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔
ففی بذل المجهود: باب فی رد الوسوسة (إلی قوله) حدثنا احمد بن یونس (إلی قوله) عن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال: جاءہ أ ناس من أصحابه فقالوا یا رسول اللہ - صلى الله عليه وسلم- نجد في أنفسنانعظم أن نتكلمنا به. أو قال: ’’أو قد وجدتموه» قالوا: نعم. قال: ذاك صريح الإيمان‘‘ قال المؤلف تحت قوله قال صلی اللہ علیه وسلم أوقد وجدتموہ قالوا نعم قال ذلك صریح الإیمان: قال الخطابی معناہ أن صریح الإیمان ہو الذی یمنعکم من قبول ما یلقیه الشیطان فی أنفسکم أو التصدق به حتی یصیر ذلك وسوسة (إلی قوله) ولیس معناہ أن الوسوسة نفسها صریح الإیمان (إلی قوله) معناہ ۔۔۔۔۔ الکلام به ھو صریح الإیمان اھ (۶/۳۰۲)۔ و اللہ أعلم بالصواب!
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1