کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص صحیح العقائد اہلِ سنت و الجماعت کا ہے، لیکن بعض اوقات اپنی بعض دعاؤں میں ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے کہ ’’اے اللہ ہم فقیر ہیں، ہم محتاج ہیں، ہماری مدد فرما، ہم آپ کے دربار یعنی مسجد میں تیرے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں تو دیکھ رہا ہے، اب تو آجا، اب تو آجا‘‘، لیکن بعض لوگ اسے کفریہ الفاظ قرار دیتے ہیں اور کہنے والے کو ان الفاظ مذکور ’’اب تو آجا‘‘ پر اس کو کافر قرار دیتے ہیں اور دلیل میں فتاویٰ عالمگیریہ کی عبارت پیش کرتے ہیں عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ ’’جو اللہ کے لیے مکان ثابت کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے‘‘۔ اور مذکورہ الفاظ ’’اب تو آجا‘‘ اس میں بھی اللہ کےلیے مکان ثابت ہوتا ہے، لہٰذا کہنے والا کافر ہو گیا۔
اور ایک مسئلہ یہ ہے کہ حدیث شریف میں ہے کہ’’ بندہ جب اللہ سے ایک بالشت قریب ہو جاتاہے تو اللہ تعالیٰ ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہے الخ ‘‘ اس کے بارے میں بندہ پریشان ہے بندہ کی تسلی کےلیے عالمگیریہ کی عبارت اورمذکورہ حدیث کا مطلب بھی واضح فرمائیں۔
ہر وہ کلام جو ظاہر نصوص کے مطابق اور کسی صحیح العقیدہ شخص سے صادر ہو اور عالم ہونے کی وجہ سے وہ اس کے صحیح محمل کو بھی سمجھتا ہو، یا وہ غلبہ حال میں صادر ہوئے ہوں تو اس پر کفر کا فتویٰ لگانا درست نہیں ہوتا، اور چونکہ مذکور جملہ ’’اب تو آجا‘‘ ظاہر نصوص جیسے حدیث نزول إلی السماء اور حدیثِ تقریب کے مشابہ اور صحیح العقیدہ سنّی شخص سے منقول ہے، اس لیے مذکور فتویٰ درست معلوم نہیں ہوتا، تا ہم اگر فتاویٰ عالمگیریہ کی متعلقہ عبارت بتصریح جلد و صفحہ لکھ کربھیج دی جائے تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے، جبکہ مذکور حدیث میں اتیان (آنے) سے مراد ’’رحمت و اعانت اور توفیق کے ساتھ آنا ہے، نہ کہ انسانوں و غیرہ کی طرح چل کر آنا۔
ففی صحيح مسلم:عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: يقول الله عز وجل: «أنا عند ظن عبدي بي، وأنا معه حين يذكرني، إن ذكرني في نفسه، ذكرته في نفسي، وإن ذكرني في ملإ، ذكرته في ملإ هم خير منهم، وإن تقرب مني شبرا، تقربت إليه ذراعا، وإن تقرب إلي ذراعا، تقربت منه باعا، وإن أتاني يمشي أتيته هرولة»۔(4/ 2061)
وفی شرح النووي على مسلم: ﴿قَوْلُهُ تَعَالَى وَأَنَا مَعَهُ الخ﴾ أَيْ مَعَهُ بِالرَّحْمَةِ وَالتَّوْفِيقِ وَالْهِدَايَةِ وَالرِّعَايَةِ (إلی قوله) مَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِطَاعَتِي تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بِرَحْمَتِي وَالتَّوْفِيقِ وَالْإِعَانَةِ وَإِنْ زَادَ زِدْتُ فَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي وَأَسْرَعَ فِي طَاعَتِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً أَيْ صَبَبْتُ عَلَيْهِ الرَّحْمَةَ وَسَبَقْتُهُ بِهَا وَلَمْ أُحْوِجْهُ إِلَى الْمَشْيِ الْكَثِيرِ فِي الْوُصُولِ إِلَى الْمَقْصُودِ الخ (17/ 3)
وفی البحر: لایفتی بتکفیر مسلم أمکن حمل کلامه علی محمل حسن اھ ( ۵/ ۱۲۵) واللہ أعلم بالصواب!
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1