کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ میں شریعت کو نہیں مانتا، میں قرآن اور اس کے ترجمہ کو مانتا ہوں۔ پھر بعد میں کہتا ہے کہ میں نے یہ بات غصہ میں کہی تھی، میں تو قرآن اور حدیث کو مانتا ہوں۔ پوچھنا یہ ہے کہ ایسا کہنے سے اس کا نکاح فاسد تو نہیں ہوگا؟ ازراہِ کرم جواب مرحمت فرما کر ممنون فرمائیں۔
نوٹ: بعد میں فون پر یہ معلوم ہوا کہ بیوی کو شوہر کے گھر والوں نے مارا تھا، تو وہ میکے میں بیٹھی ہوئی تھی، شوہر لینے کے لیے گیا تو بیوی نے الگ مکان کا مطالبہ کیا اور شوہر سے کہا کہ یہ حق تو شریعت نے بھی دیا ہے اس کے جواب میں شوہر نے کہا کہ ’’میں اس شریعت کو نہیں مانتا‘‘ میں قرآن اور اس کے ترجمہ کو مانتا ہوں۔
بیوی کے شرعی حکم بیان کرنے پر شوہر کا جواباً یہ کہنا کہ ’’میں شریعت کو نہیں مانتا‘‘ اگرچہ بے احتیاطی میں ہی کیوں نہ ہو ا ہو، مگر یہ کلمہ کفر ہے جو کسی مسلمان سے متصوّر نہیں، اس لیے اس پر لازم ہے کہ اولاً تو اپنے اِن کلمات پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ کرے اور تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح بھی کرے اور آئندہ اس طرح کے الفاظ کہنے سے مکمل طور پر احتراز کرنے کے ساتھ بیوی کےجائز مطالبات پورے کرنے کی فکر کرے، اس کی بیوی پر گھر کے دیگر افراد کا ہاتھ اٹھانا بہت بری حرکت ہے۔ اسلامی قانون کے نافذالعمل ہونے کی صورت میں، اگر اِن افراد کا یہ جرم قاضی کی عدالت میں ثابت ہو جائے تو اِن پر تعزیر بھی جاری کی جا سکتی ہے، اس لیے اس پر لازم ہے کہ اچھے اخلاق و عادات اپنانے اور بیوی کے جائز حقوق اُسے دینے میں کوتاہی نہ کرے اور اسے ایسی علیحدہ رہائش دینے کی کوشش کرے جس میں دیگر اہلِ خانہ کی مداخلت نہ ہو ، اور وہ اپنے سامان جہیز وغیرہ کے ساتھ اور عزت کے ساتھ وقت گزار سکے۔
ففی الفتاوى الهندية:وإذا قال الرجل لغيره: حكم الشرع في هذه الحادثة كذا فقال ذلك الغير: من برسم كار ميكنم نه بشرع يكفر عند بعض المشايخ رحمهم الله تعالى وفي مجموع النوازل قال رجل لامرأته: ما تقولين أيش حكم الشرع فتجشأت جشاء عاليا فقالت: اينك شرع را فقد كفرت وبانت من زوجها كذا في المحيط. (2/ 272)-
وفیھا أیضاً: ما كان في كونه كفرا اختلاف فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط۔اھ (2/ 283)- واللہ أعلم بالصواب
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1