کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی مسلمان آدمی چرچ ، مندر، یا کوئی اور غیر مسلموں کی عبادت گاہ صرف اس وجہ سے کہ لوگ اس کو سیکولر اور روشن خیال سمجھیں، بناتا ہے نہ تو وہ بلڈر ہے اور نہ ہی اس کا کوئی تعمیراتی کام ہے، وہ صرف اپنی مشہوری کےلیے اس طرح کا کام کرتا ہے تو اس طرح غیر مسلموں کی عبادت گاہ تعمیر کرانے کا کیا حکم ہے اور اس کا کفارہ کیا ہے؟
غیر مسلموں کے عبادت خانے تعمیر کرنا یا اس خواہش کا اظہار کرنا خصوصاً جبکہ وہ اپنے آپ کو سیکولر اور روشن خیال ظاہر کرنے کے لیے ہو، قطعاً ناجائز اور حرام ہے، جس کی وجہ سے اس آدمی کے سوءِ خاتمہ کا قوی اندیشہ ہے، اور چونکہ عبادت خانے کسی بھی قوم اور مذہب کا شعار ہوتے ہیں،اگر ان کی تعظیم کی غرض سے ایسا کیا جائے تو یہ طرزِعمل کفر کے زُمرے میں آتا ہے، اس لیے مذکور شخص پر لازم ہے کہ اپنے اراددہ سے باز آجائے اور اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار بھی کرے۔
ففی الدر المختار: (ولا) يجوز أن (يحدث بيعة، ولا كنيسة ولا صومعة، ولا بيت نار، ولا مقبرة) ولا صنما حاوي (في دار الإسلام) ولو قرية الخ (4/ 202)
و فی حاشية ابن عابدين: فلا يحل للسلطان ولا للقاضي أن يقول لهم افعلوا ذلك ولا أن يعينهم عليه، ولا يحل لأحد من المسلمين أن يعمل لهم فيه،(4/ 204)
و فی الفتاوى الهندية: إن أراد أهل الذمة إحداث البيع و الكنائس، أو المجوسي إحداث بيت النار إن أرادوا ذلك في أمصار المسلمين، وفيما كان من فناء المصر منعوا عن ذلك عند الكل اھ(2/ 247)
وفی تاتارخانیة: إما علی روایة أن القدیمة لاتهدم والحدیثة هل تھدم لم یذکر هذا فی شئ من الکتب وحکی عن أبی الحسن الرستفغنی أنه قال تهدم ولاتترك اھ (۵/۴۴۸)
وفی الدر المختار: (وإن قصد تعظيمه) كما يعظمه المشركون (يكفر) (6/ 754) واللہ أعلم بالصواب
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1