محترم جناب مفتی صاحب!
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے بہنوئی نے میری بہن کے ساتھ حالتِ حیض میں زبرستی پیچھے کے راستے سے صحبت کی ہے۔
اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ میری بہن کا بیٹا بیمار تھا ،اس نے اپنے مذکور شوہر سے کہا کہ بچہ بیمار ہے اس کے علاج کے لیے پیسے دو تو اس نے غصے میں آکر قرآن شریف کو دو مرتبہ زمین پر زور سے مارا اور کہا کہ یہ کیا مصیبت ہے ہر وقت پیسے مانگتے ہیں، بعد میں سمجھانے پر بھی اسے کوئی ندامت نہیں ہوئی اور اب تک اپنی بات پر مُصر ہے کہ میں نے اپنی ذات کے لیے کیا ہے اور کسی کو اس سے کیا غرض ہے؟ اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ دو امور کی وجہ سے اس کے نکاح پر کوئی اثر پڑا ہے یا نہیں؟ اور اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
۱۔ واضح ہو کہ سائل کا بہنوئی اپنے مذکور قبیح عمل کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوا ہے،اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کےلیے ایسی قبیح حرکات سے مکمل احتراز کرے، جبکہ مذکور عمل سے نکاح متأثر نہیں ہوتا، بلکہ وہ بدستور قائم ہے۔
۲۔ سائل کے بہنوئی کا قرآن کریم کو یکے بعد دیگرے دو مرتبہ زمین پرپٹخنا انتہائی درجہ کی بدتمیزی اور موجبِ کفر حرکت ہے، اس کی بیوی پر لازم ہے کہ وہ ایسے بدخصلت شخص سے اس وقت تک علیحدگی اختیار کرے، جب تک وہ اپنی اس قبیح اور گھناؤنی حرکت پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار کر کے تجدیدِ ایمان ونکاح نہ کرے اور یہ کہ آئندہ کے لیے ایسی ناجائز حرکات سے مکمل طور پر اجتناب کا وعدہ نہ کرے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾ (البقرة: 222)
و فی الفقه الإسلامي وأدلته:وقد ثبت تحريم الوطء في الدبر، في السنة النبوية، بأحاديث كثيرة منها: «ملعون من أتى امرأة في دبرها» «الذي يأتي المرأة في دبرها هي اللوطية الصغرى» «من أتى حائضاً، أو امرأة في دبرها، أو كاهناً، فصدقه، فقد كفر بما أنزل على محمد»(إلی قوله)ويحرم بالاتفاق إتيان الحائض اھ (4/ 2641،2642)
و فی الفتاوى الهندية:إذا أنكر الرجل آية من القرآن، أو تسخر بآية من القرآن وفي الخزانة، أو عاب كفر كذا في التتارخانية. (2/ 266)
وفی التاتارخانیة: سئل الحسن بن علی عمّن وضع رجله علی المصحف حالفاً هل یکفر فقال نعم إن کان علیٰ وجه الإستخفاف اھ (۵/۴۹۱) واللہ أعلم!
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1