السلام علیکم! میں نے ایک تقریب میں سنا کہ اگر کوئی شخص ’’مرد یا عورت‘‘ خود کشی کرنا چاہے مگر اس میں ناکام ہوجائے، تو وہ مرد یا عورت مسلمان نہیں رہتا، اسے دوبارہ کلمہ پڑھنا ہوگا، یعنی تجدید ایمان کرنا ہوگا، اور اگر وہ شادی شدہ ہو تو انہیں نکاح از سر نو کرنا ہوگا، از راہِ کرم اسلامی نقطہ نظر سے اس کا حکم بتادیجئے، اور یہ بھی بتائیں کہ اس عمل سے توبہ تائب کیسے ہوا جائے؟
خودکشی یا اس کا عزم اگرچہ دونوں فی نفسہٖ ناجائز ہیں، اس کی وجہ سے انسان سخت گنہگار ہوتا ہے مگر دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، اور نہ ہی اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے، لہٰذا اگر کسی مسلمان نے ایسا کوئی اقدام کیا ہو اور پھر وہ اس پر ناکام ہوگیا ہو تو چونکہ اس نے اللہ کی طرف سے امانۃً ملی ہوئی ’’جان‘‘ کو ضائع کرنے کی کوشش کی ہے، لہٰذا اس گناہ کی وجہ سے اس پر بصدقِ دل توبہ واستغفار لازم ہوگا۔ جبکہ تجدیدِ ایمان اور تجدید نکاح کی ضرورت نہیں۔
کما فی شرح الفقہ الأکبر: (ولا نکفر مسلمًا بذنب من الذنوب وان کانت کبیرة اذا لم یستحلہا) أی اذا لم یکن یعتقد حلہا، لان من استحل معصیۃ قد ثبتت حرمتہا بدلیل قطعی فہو کافر، (ولا نزیل عنہ اسم الإیمان)۔ (ص۷۰)۔ واللہ اعلم بالصواب
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1