کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاں لوگوں کا عام رواج ہے کہ ہر بات پر ایک دوسرے کو سخت قسم کی گالیاں دے دیتے ہیں یہاں تک کہ دین کی بھی گالی دے دیتے ہیں، چنانچہ ایک میاں بیوی میں کسی بات پر جھگڑا ہوا تو خاوند نے غصہ میں آ کر بیوی کو یہ گالی دی کہ ’’تیرا دین چودوں‘‘ اب آنجناب سے پوچھنا یہ ہے کہ مذکور گالی کی وجہ سے شخصِ مذکور کیلئے کیا حکم ہے؟ اور اس سے نکاح پر کچھ اثر ہوگا یا نہیں؟ اور ایسے لوگوں کیلئے شرعا کیا سزا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کا کلام دو معنوں کا احتمال رکھتا ہے ایک یہ اس کلام میں دین سے مراد اگر دینِ اسلام ہے تو بلاشبہ یہ کلماتِ کفر ہے جس کی بناء پر یہ شخص کافر ہوچکا ہے اور اس کا نکاح بھی ختم ہوچکا ہے، اس پر لازم ہے کہ فوراً اپنے اس فعل پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرے اور تجدیدِ ایمان کے ساتھ ساتھ تجدیدِ نکاح بھی کرے۔
اور دوسرا یہ کہ دین سے مراد دین اسلام نہ ہو بلکہ بیوی کا اپنایا ہوا دین (یعنی طریقہ) مراد ہو کہ یہ ناقص کام ہے مجھے پسند نہیں الخ، تو اس صورت میں اس کے یہ کلمات اگرچہ موجبِ کفر تو نہیں ہیں تاہم دین کی طرف نسبت کرکے اس قسم کی گالی دینا فسق ہے اور اس قسم کے کلمات سے احتراز واجب ہے، اس دوسری صورت میں بھی شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ اپنے اس فعل پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کیلئے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے مکمل احتراز کرے، اور اسے چاہئے کہ احتیاطاً تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح بھی کرے۔ ……… واﷲ اعلم!
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1