کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری اور میرے ایک دوست کی بحث ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے (یہ میرا خیال ہے) اور اللہ ہر جگہ نہیں ہے ( یہ میرے دوست کا خیال ہے) میرے دوست نے کہا کہ میں یہ خیال اس لیے ظاہر کر رہا ہوں کہ میں امام ابوحنیفہؒ کو مانتا ہوں۔ اس نے ایک کتاب ’’عون المعبود‘‘ کا حوالہ دیا(۹/۷۶) کہ اگر کسی نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ میرا اللہ کہاں ہے، آسمان پر ہے یا زمین پر، امام صاحب نے کہا کہ اس شخص نے کفر کیا ہے، کیونکہ اللہ کہتا ہے ’’رحمٰن عرش پر ہے اور اس کا عرش آسمان پر ہے‘‘۔ اور یہ کہ اللہ کا عرش ساتویں آسمان پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ساتویں آسمان پر ہے اور ایک حدیث میں اس کا مفہوم یہ ہے:
لیلۃ القدر کو اللہ تعالیٰ پہلے آسمان پر آتا ہے، اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے تو پھر ساتویں اور پہلے آسمان پر ہونے اور آنے کا کیا مطلب ہے؟
اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی جسمانی اعضاء و عوارض سے پاک ہے، اس کی ذات کے بارے میں غور وفکر اور بحث مباحثہ کرنے سے شریعتِ مطہرہ نے منع فرمایا ہے، کیونکہ وہ وراء الوراء ہے۔ ہاں! اس کی مخلوقات میں غور و فکر منع نہیں، اس لیے سائل اور اس کے دوست پر لازم ہے کہ آئندہ کے لیے اس قسم کے بحث مباحثہ میں پڑنے سے احتراز کریں۔
تاہم یہ واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ حاضر اور اس کے ہر جگہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شئی اور جگہ اس کے احاطہ علم و قدرت سے خارج نہیں۔ اور جن آیات و غیرہ میں اس کے عرش پر بیٹھنے اور آسمانِ دنیا پر جلوہ افروز ہونے وغیرہ کا ذکر آتا ہے وہ بلاشبہ ثابت ہیں، مگر اس قسم کی باتیں متشابہات کہلاتی ہیں اس کی حقیقت اور کیفیت نہ کسی کو معلوم ہے اور نہ اس کے پیچھے پڑنا درست ہے، کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے۔
ففی مشكاة المصابيح:وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "لا يزال الناس يتساءلون حتى يقال هذا خلق الله الخلق فمن خلق الله؟ فمن وجد من ذلك شيئا فليقل: آمنت بالله ورسله" (متفق عليه) (1/ 26)-
وفیه أیضاً: وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : "يأتي الشيطان أحدكم فيقول: من خلق كذا؟ من خلق كذا؟ حتى يقول: من خلق ربك؟ فإذا بلغه فليستعذ بالله ولينته" (متفق عليه) (1/ 26)-
وفی مرقاة المفاتيح: ودلالة على حرمة المراء، والمجادلة فيما يتعلق بذات الله، وصفاته۔(1/ 138)-
وقال اللہ تعالیٰ:﴿الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (آل عمران: 191)-
ففی تفسير ابن كثير: وَأَمَّا قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ﴾ فَلِلنَّاسِ فِي هَذَا الْمَقَامِ مَقَالَاتٌ كَثِيرَةٌ جِدًّا، لَيْسَ هَذَا مَوْضِعَ بَسْطِهَا، وَإِنَّمَا يُسلك فِي هَذَا الْمَقَامِ مَذْهَبُ السَّلَفِ الصَّالِحِ: مَالِكٌ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، (إلی قوله) وَهُوَ إِمْرَارُهَا كَمَا جَاءَتْ مِنْ غَيْرِ تَكْيِيفٍ وَلَا تَشْبِيهٍ وَلَا تَعْطِيلٍ. وَالظَّاهِرُ الْمُتَبَادَرُ إِلَى أَذْهَانِ الْمُشَبِّهِينَ مَنْفِيٌّ عَنِ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُشْبِهُهُ شَيْءٌ مِنْ خَلْقِهِ، وَ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ (الشُّورَى:11) (3/ 426) واللہ أعلم بالصواب
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1