ایمان

اللہ تعالیٰ کے ہر جگہ موجود ہونے کی وضاحت

فتوی نمبر :
58866
| تاریخ :
2002-07-08
عقائد / ایمان و کفر / ایمان

اللہ تعالیٰ کے ہر جگہ موجود ہونے کی وضاحت

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری اور میرے ایک دوست کی بحث ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے (یہ میرا خیال ہے) اور اللہ ہر جگہ نہیں ہے ( یہ میرے دوست کا خیال ہے) میرے دوست نے کہا کہ میں یہ خیال اس لیے ظاہر کر رہا ہوں کہ میں امام ابوحنیفہؒ کو مانتا ہوں۔ اس نے ایک کتاب ’’عون المعبود‘‘ کا حوالہ دیا(۹/۷۶) کہ اگر کسی نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ میرا اللہ کہاں ہے، آسمان پر ہے یا زمین پر، امام صاحب نے کہا کہ اس شخص نے کفر کیا ہے، کیونکہ اللہ کہتا ہے ’’رحمٰن عرش پر ہے اور اس کا عرش آسمان پر ہے‘‘۔ اور یہ کہ اللہ کا عرش ساتویں آسمان پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ساتویں آسمان پر ہے اور ایک حدیث میں اس کا مفہوم یہ ہے:
لیلۃ القدر کو اللہ تعالیٰ پہلے آسمان پر آتا ہے، اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے تو پھر ساتویں اور پہلے آسمان پر ہونے اور آنے کا کیا مطلب ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی جسمانی اعضاء و عوارض سے پاک ہے، اس کی ذات کے بارے میں غور وفکر اور بحث مباحثہ کرنے سے شریعتِ مطہرہ نے منع فرمایا ہے، کیونکہ وہ وراء الوراء ہے۔ ہاں! اس کی مخلوقات میں غور و فکر منع نہیں، اس لیے سائل اور اس کے دوست پر لازم ہے کہ آئندہ کے لیے اس قسم کے بحث مباحثہ میں پڑنے سے احتراز کریں۔
تاہم یہ واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ حاضر اور اس کے ہر جگہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شئی اور جگہ اس کے احاطہ علم و قدرت سے خارج نہیں۔ اور جن آیات و غیرہ میں اس کے عرش پر بیٹھنے اور آسمانِ دنیا پر جلوہ افروز ہونے وغیرہ کا ذکر آتا ہے وہ بلاشبہ ثابت ہیں، مگر اس قسم کی باتیں متشابہات کہلاتی ہیں اس کی حقیقت اور کیفیت نہ کسی کو معلوم ہے اور نہ اس کے پیچھے پڑنا درست ہے، کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مشكاة المصابيح:وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "لا يزال الناس يتساءلون حتى يقال هذا خلق الله الخلق فمن خلق الله؟ فمن وجد من ذلك شيئا فليقل: آمنت بالله ورسله" (متفق عليه) (1/ 26)-
وفیه أیضاً: وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : "يأتي الشيطان أحدكم فيقول: من خلق كذا؟ من خلق كذا؟ حتى يقول: من خلق ربك؟ فإذا بلغه فليستعذ بالله ولينته" (متفق عليه) (1/ 26)-
وفی مرقاة المفاتيح: ودلالة على حرمة المراء، والمجادلة فيما يتعلق بذات الله، وصفاته۔(1/ 138)-
وقال اللہ تعالیٰ:﴿الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (آل عمران: 191)-
ففی تفسير ابن كثير: وَأَمَّا قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ﴾ فَلِلنَّاسِ فِي هَذَا الْمَقَامِ مَقَالَاتٌ كَثِيرَةٌ جِدًّا، لَيْسَ هَذَا مَوْضِعَ بَسْطِهَا، وَإِنَّمَا يُسلك فِي هَذَا الْمَقَامِ مَذْهَبُ السَّلَفِ الصَّالِحِ: مَالِكٌ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، (إلی قوله) وَهُوَ إِمْرَارُهَا كَمَا جَاءَتْ مِنْ غَيْرِ تَكْيِيفٍ وَلَا تَشْبِيهٍ وَلَا تَعْطِيلٍ. وَالظَّاهِرُ الْمُتَبَادَرُ إِلَى أَذْهَانِ الْمُشَبِّهِينَ مَنْفِيٌّ عَنِ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُشْبِهُهُ شَيْءٌ مِنْ خَلْقِهِ، وَ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ (الشُّورَى:11) (3/ 426) واللہ أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58866کی تصدیق کریں
1     4042
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • دانتوں پر سونے یا چاندی کا خول چڑہانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ایمان 1
  • خودکشی میں ناکامی کے بعد تجدیدایمان یاتجدیدنکاح لازم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   ایمان 1
  • کیا غیر عربی میں اقرار ایمان معتبر ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   ایمان 2
  • عقیدہ کے متعلق برے خیالات کا آنا

    یونیکوڈ   اسکین   ایمان 1
  • ایمان کی تعریف اور ایمان میں کمی زیادتی کا مطلب

    یونیکوڈ   اسکین   ایمان 2
  • غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ایمان 6
  • کیا اللہ تعالیٰ عرش پر ہیں یا ہر جگہ موجود ہیں؟

    یونیکوڈ   ایمان 0
  • ’’میں شریعت کو نہیں مانتا‘‘ کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   ایمان 3
  • نبی کریم ؐ اور صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ایمان 2
  • امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • کفریہ گانوں کے گنگنانے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • ’’خاتم کا معنیٰ آخری نبی نہیں ہے‘‘ کہنے والے کا حکم

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • اللہ تعالیٰ کی صفات کے تعدد سے تعددِذات کا لازم نہ ہونا

    یونیکوڈ   ایمان 0
  • ملازمت کے حصول کیلئے اپنے آپ کو قادیانی ظاہر کرنا

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • ’’گانا سننے میں کوئی گناہ تونہیں‘‘ کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • کیا نبی کریم ﷺ نے اللہ رب العزت کو دیکھا ہے؟

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • دعا میں ’’اب تو آجا‘‘ کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • غیر مسلموں کی عبادت گاہیں تعمیر کروانا

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • ’’تیرا دین چودوں‘‘جیسے کلمات کا حکم

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • کیا اللہ تعالیٰ ساتواں آسمان پر ہیں، اگر نہیں تو کہاں ہیں؟

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • داڑھی کو برا سمجھنا ,اس کی توہین و تحقیر کرنا اورنجومیوں کو ہاتھ دکھانا

    یونیکوڈ   ایمان 2
  • اللہ تعالیٰ کے ہر جگہ موجود ہونے کی وضاحت

    یونیکوڈ   ایمان 1
  • عقیدہ حیاۃ الانبیاء

    یونیکوڈ   ایمان 0
Related Topics متعلقه موضوعات