میں پاکستان میں رہتا ہوں ،میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میری امی کی عمر 60 سال ہیں ،اور عمرہ پر جانا چاہتی ہیں، کیا وہ بغیر محرم کے عمرہ پر جاسکتی ہیں؟ کوئی محرم کا بندوبست نہیں ہورہا ،اسلام میں یہ جائز ہے کہ نہیں ؟ اور میں نے یہ پوچھنا ہےکہ لوگ عارضی طور پر گروپ میں کسی کو محرم بنالیتے ہیں،کیا یہ اسلام میں جائز ہے ؟
عورت چاہے بڑی عمر کی کیوں نہ ہو اس کا بغیر محرم کے سفر کرنا چاہے عمرہ کی غرض سے ہی ہو ،شرعاً جائز نہیں ،جبکہ عمرہ کرنا کوئی فرض واجب نہیں بلکہ نفلی اور مستحب عمل ہے ،اس لیے غیر محرم کے ساتھ سفر کرنا یا اپنی مرضی سے کسی کو محرم بنا دینا درست نہیں ،اس لیے اس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی صحیح المسلم : عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ» اھ (2/975)۔
و فی الہندیة : (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزاإذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا فی المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا فی البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا فی الخلاصة ويشترط أن يكون مأمونا عاقلا بالغا حرا كان أو عبدا كافرا كان أو مسلما هكذا فی فتاوى قاضي خان اھ (1/218)۔