اگر کوئی جھوٹ بول کر کوئی فتویٰ حاصل کرتا ہے تو اس کا کیا انجام ہے اور اس فتویٰ کا کیا اعتبار ہے ؟
جھوٹ بول کر فتویٰ حاصل کرنا انتہائی سخت گناہ ہے، اور غلط بیانی کے ذریعہ حاصل کیا ہوا فتوی شرعاً معتبر نہیں، اس سے نہ کسی کا حق ساقط ہوتا ہے ،اور نہ ہی اس سے حلال و حرام کے شرعی حکم میں تبدیلی واقع ہوتی ہے ۔اس لیے متعلقہ شخص پر لازم ہے کہ اپنے اس قبیح حرکت پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے۔ اور آئندہ کے لیے ایسا کرنے سے اجتناب کرے ۔
كما في صحيح البخاري: عن أم سلمة رضي الله عنها: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إنكم تختصمون إلي، ولعل بعضكم ألحن بحجته من بعض، فمن قضيت له بحق أخيه شيئا، بقوله: فإنما أقطع له قطعة من النار فلا يأخذها " (3/ 180)۔
مسجد میں فضائلِ اعمال کی تعلیم اور درسِ قرآ ن کے سلسلے میں تقابل و ٹکراؤ کی فضا بنانا
یونیکوڈ متفرقات 0