میں نے بہشتی زیور میں پڑھا ہے کہ غسل میں اگر پیشاب والی جگہ کے اندر پانی نہ ڈالا جائے تو غسل نہیں ہوتا ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا انگلی کی مدد سے پانی پہنچانا ضروری ہے ؟ اور کیا پانی اندر ڈالنے کے بعد دوبارہ استنجاء ضروری ہے؟
واجب غسل میں بھی پیشاب کی جگہ کے اندر پانی پہنچانا فرض نہیں ، بیرونی حصہ دھونا کافی ہے ، یہی بات بہشتی زیور میں لکھی ہے ، البتہ جس مرد کا ختنہ نہ ہوا ہو اس کو متعلقہ کھال کے اندر پانی پہنچانا فرض ہے ، بہشتی زیور کی عبارت ملاحظہ ہو (عورت کو پیشاب کی جگہ آگے کی کھال کے اندر پانی پہنچانا غسل میں فرض ہے ، اگر پانی نہ پہنچے گا تو غسل نہ ہوگا ، اگر مرد کا ختنہ نہ ہوا ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر کھال کے کھولنے میں دقت نہ ہو تو کھال کے اندر پانی ڈالنا فرض ہے اور اگر دقت ہو تو فرض نہیں) ۔
کما فی الدر المختار: (ويجب) أي يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة كأذن و (سرة و شارب و حاجب و) أثناء (لحية) و شعر رأس و لو متبلدا لما في - {فاطهروا} [المائدة: 6]- من المبالغة (و فرج خارج) لأنه كالفم لا داخل ؛ لأنه باطن و لا تدخل أصبعها في قبلها به يفتي (لا) يجب (غسل ما فيه حرج كعين) و إن اكتحل بكحل نجس (و ثقب انضم و) لا (داخل قلفة) الخ
و فی رد المحتار : تحت (قوله : و داخل قلفة) القلفة و الغلفة بالقاف و بالغين : الجلدة التي يقطعها الخاتن يجوز فيها فتح القاف و ضمها و زاد الأصمعي: فتح القاف و اللام حلية (قوله : فسقط الإشكال) أي إشكال الزيلعي ، حيث قال لا يجب ؛ لأنه خلقة كقصبة الذكر و هذا مشكل ؛ لأنه إذا وصل البول إلى القلفة ينتقض الوضوء فجعلوه كالخارج في هذا الحكم و في حق الغسل كالداخل اهـ و وجه السقوط أن علة عدم وجوب غسلها الحرج : أي أن الأصل وجوب الغسل إلا أنه سقط للحرج اھ (1/ 152)۔