میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مخصوص ایام میں صحبت کرلے اور اس کے نتیجے میں حمل ہو جائے تو شرعاً اس حمل کی کیا حیثیت ہے؟ اور اس حمل کو ضائع کروانے کی گنجائش ہے؟ مہر بانی جلد جواب سے مطلع فرمائیں۔
ماہواری کے دوران بیوی سے ہمبستری کرنا اگر چہ ناجائز و حرام ہے، مگر اس کے نتیجے میں ٹھہرنے والا حمل ثابت النسب ہے، اس کو ضائع کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: ويحرم بالاتفاق إتيان الحائض، ومستحله كافر، لقوله تعالى: }ويسألونك عن المحيض، قل: هو أذى، فاعتزلوا النساء في المحيض، ولا تقربوهن حتى يطهرن، فإذا تطهرن فأتوهن من حيث أمركم الله، إن الله يحب التوابين، ويحب المتطهرين{ ]البقرة:٢٢٢/ ٢[(الى قوله) ويسن لمن وطئ الحائض أن يتصدق بدينار اھ (3/552)
وفیه ایضاً: اتفق العلماء على تحريم الإجهاض دون عذر بعد الشهر الرابع أي بعد ١٢٠ يوما من بدء الحمل،اھ (3/556)