استخارے کی قرآن و حدیث میں کیا اہمیت ہے؟ اگر استخارہ کرنے والے کو خواب میں کوئی اشارہ ملتا ہے اور علماء اس کی تعبیر یہ کرتے ہیں کہ اگر آپ کا یہ کام ہو جاتا ہے جس کے لئے استخارہ کیا ہے تو اس میں آپ کے لیے نفع ہے مگر وہ کام یا تو ہوتا نہیں یا اس میں بہت تاخیر ہو جاتی ہے تو یہ بات واضح کر دے کہ ہم تو اللہ کو یہ کہتے ہیں کہ اگر اس میں خیر ہے تو کر دے اور اشارہ کی بنیاد پر علماء فرماتے ہیں کہ اگر یہ ہو جائیں تو اس میں خیر ہے تو پھر کیوں نہیں ہوتا؟ ہمیں پتہ ہے کہ ہم عمل کا حق ادا نہیں کر سکتے مگر سنت پر عمل کرنے کی ایک کمزور کوشش تو ہر مسلمان کر سکتے ہے اگر اس کوشش کے باوجود بھی فیصلہ نہیں ہوتا تو غلطی کہا پر ہے اگر استخارے کی وجہ سے ایسی حالت بن جائے تو کیا میں آئندہ استخارہ نہ کروں؟ بہت الجھن ہے اس مسئلے میں میری مدد فرمائیں تاکہ میں آئندہ بھی اپنا عمل جاری رکھ سکوں ۔
کسی کام میں خیر یا بے خیری اس کام کے ہونے پر موقوف ہوتی ہے اور استخارہ سے محض اتنا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام ہو گیا تو اس میں نفع ہوگا ،جہاں تک اس کام کے کرنے کا تعلق ہے، تو وہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے اور اپنے وقت پر ہوتا ہے اس کے بارے میں پریشان ہونا اپنے دائرہ احتیاط سے باہر کی چیز ہے، جس سے احتراز چاہیے ۔
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0