مجھے بے چینی کی شکایت ہے اور میری طبیعت بھی بہت وہمی ہے، میں نے ٹی وی پر سنا تھا کہ پانی میں ایک جراثیم ہوتا ہے جس کا شکار مریض ۹۹ فیصد نہیں بچتا اور یہ جراثیم پانی کو ناک میں اُوپر تک ڈالنے کی صورت میں آپ کے اندر جاسکتا ہے، جب سے میں نے سنا ہے بہت پریشان ہوں جب بھی غسل فرض ہوتا ہے کتنے کتنے دن نہا نہیں سکتا اور جب نہالوں تو ناک میں پانی ڈالنے کے بعد بہت دن تک کافی پریشان رہتا ہوں، سوچتا رہتا ہوں، تو کیا مجھے اپنے لیے شریعت سے رعایت نہیں مل سکتی کہ میں فرض غسل کی صورت میں ناک میں پانی نہ ڈالوں اور ایسے ہی نہالوں؟ہمارے دین میں تو بہت آسانی ہے تو مجھے میرا مذہب رعایت نہیں دیتا کیا؟ اگر مجھے یہ رعایت مل جائے تو میں بہت سے اُلٹی سوچوں سے بچ جاؤں گا۔
اس میں شک نہیں کہ ہمارے دین میں بہت آسانیاں ہیں، مگر سوال میں مذکور صورت وہم پر مبنی ہے اور محض وہم کی وجہ سے فرض غسل میں ناک میں پانی ڈالنے کی فرضیت ساقط نہیں ہوسکتی،لہذا سائل پر لازم ہے کہ فرض غسل کیلیے ناک میں ضرور پانی ڈالا کرے ورنہ فرض غسل ادا نہ ہوگا۔
ففی الهدایة: فصل فی الغسل وفرض الغسل المضمضة والاستنشاق وغسل سائر البدن اھ (1/29)