کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ
(۱) میت کے نمازِ جنازہ کے بعد وہیں پر کھڑے ہوکر دعا مانگنا کچھ دیر تک ،آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
(۲) نماز کس شخص کے پیچھے پڑھنا جائز ہے اور کس کے پیچھے ناجائز ؟ کیا کوئی بڑا عالم یا مفتی مقرر کردہ امام کے پیچھے نماز ادا کرسکتا ہے جو علم میں اس سے کم ہو؟
(۳) ہمارے گاؤں میں تقریباً دس ہزار کی آبادی ہے تین مسجدیں پہلے سے بنی ہوئی ہیں ان میں نمازِ جمعہ ادا کی جاتی ہے اب ایک نئی مسجد بنی ہے کیا لوگوں کی تعداد کے مطابق اس میں بھی نمازِ جمعہ کی ادائیگی ہوسکتی ہے جبکہ دیگر مساجد کی طرح اس میں بھی پانچ اوقات کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے؟
(۴) ایک غریب آدمی مرگیا اب اس کے دفن کرنے کے بعد اس کے بیٹے یا بھائی یا ان کے علاوہ اور کوئی وارث اس میت کی خیرات و صدقہ کرسکتا ہے ؟ اور اسی طرح اس کا چالیسواں ؟ اور کیا غریب شخص کی خیرات کھانا جائز ہے؟ خیرات اور چالیسویں کی حیثیت شرعی نقطہ نظر سے کیا ہے؟
(۵) ہمارے ہاں ایک رواج عام ہے کہ بروزِ جمعرات بعد از مغرب روٹی سامنے رکھ کر، اسی طرح سالن اور پانی بھی رکھ کر مُردوں کیلئے دعا مانگتے ہیں آیا ایسی دعا جائز ہے اور کیا جمعہ کی رات روحیں اپنے گھر آتی ہیں؟
(۱) جاننا چاہیے کہ نمازِ جنازہ سے اصل مقصد میت کیلئے دعائے مغفرت ہی ہے لہٰذا یہ خود دعا ہے اور دعا بعد الدعاء کا کوئی قرینہ نہیں، نیز جنازہ کے بعد مستقلاً کھڑے ہوکر دعا کرنا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں، جس کی بناء پر نہ صرف یہ کہ یہ دعا کرنا بدعت ہے بلکہ کتبِ فقہ میں صراحۃً اس سے منع بھی کیا گیا ہے، لہٰذا اس سے احتراز کرنا لازم ہے۔
(۲) اگر سائل کی مراد یہ ہو کہ مقرر امام کی موجودگی میں دوسرا کوئی فضل و کمال یا علم وعمل میں مقرر امام سے بہتر شخص آجائے تو نماز پڑھانے کا زیادہ حقدار کون ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ’’امام راتب‘‘ (مقررہ امام) زیادہ حقدار ہے البتہ مقرر امام اگر اپنی خوشی سے آنے والے صاحب کو امامت کی اجازت دیدے تو اسے اس کا اختیار ہے۔
(۳) اگر سائل کے گاؤں میں قیامِ جمعہ وعیدین کی تمام شرائط پائی جاتی ہوں تو مذکور مسجد میں جمعہ قائم کرنا جائز اور درست ہے البتہ اگر کوئی عذرِ شرعی نہ ہو تو سابقہ مساجد میں ہی نمازِ جمعہ قائم رہنے دی جائے اس لئے کہ ان نمازوں سے مقصود مسلمانوں کے ایک جمِّ غفیر کو ایک جگہ جمع کرکے قوتِ اسلام کو ظاہر کرنا ہے۔
(۴) اپنے مردوں کے ایصالِ ثواب کیلئے صدقہ وخیرات کرنا، ذکر و عبادت کرنا شرعاً جائز اور درست ہے لیکن اس کیلئے کوئی خاص دن یا وقت مقرر کرنا جیسے تیجا اور چالیسواں وغیرہ درست نہیں، اس لئے کہ قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر میں اس کا کوئی ثبوت نہیں لہٰذا یہ خالص بدعت ہے جس سے احتراز ضروری ہے، البتہ اگر ایصالِ ثواب ہی مقصود ہو تو اس کیلئے کسی قسم کے خاص وقت اور خاص دن یا ہیئت وغیرہ کی شرعاً کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ اخلاص کے ساتھ ہر وقت ایصالِ ثواب کرسکتے ہیں۔
(۵) یہ بھی محض ایک رسم ہے جو کہ بدعت کے زمرہ میں آتی ہے لہٰذا اس سے بھی احتراز ضروری ہے۔
فی خلاصۃ الفتاوٰی: لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ۔(ج۱، ص۲۵)۔
وفی الہندیۃ: دخل المسجد من ہو اولٰی بالامامۃ من إمام المحلۃ فامام المحلۃ اولٰی۔(ج۱، ص۸۳)۔
وفی الہندیۃ: وتودی الجمعۃ فی مصر واحد فی مواضع کثیرۃ وہو قول ابی حنیفہ ومحمد رحمھما اﷲ تعالٰی وہو الاصح۔ اھـ(ج۱، ص۱۴۵)۔
وفی الشامیۃ: من صام اوصلی او تصدق وجعل ثوابہ لغیرہ من الاموات والاحیاء جاز، ویصل ثوابہا الیہم عند اہل السنۃ والجماعۃ کذا فی البدائع۔(ج۲، ص۲۴۳)۔
ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاوّل والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلی القبر فی المراسم۔(ج۲، ص۳۴۰)۔