السلام علیکم۔ میرا نام ---ہے اور میں یو کے میں رہتا ہوں۔ میں ایک عورت کی عدت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ اس کی عمر 22 سال ہے، وہ 4 سال سے شادی شدہ تھی، اور اسے گزشتہ ہفتے خلع کے ذریعے طلاق ملی ہے۔ شوہر نے خلع کے کاغذات پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے دستخط کر دیے ہیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس کے شوہر میں مردانہ خواہش نہیں تھی، اس کی عورت میں کوئی رغبت نہیں تھی، 4 سال میں کبھی جنسی تعلق نہیں ہوا، اس نے کبھی اسے برہنہ نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی ہم بستری یا کسی بھی قسم کا جنسی تعلق قائم ہوا۔ یہی خلع کی وجہ بنی۔ ہمیں اُس کی عدت کے بارے میں مختلف رائے مل رہی ہیں۔ سوال: براہِ کرم جلد بتا دیں کہ اس کی عدت کیا ہو گی؟ بہت شکریہ۔ اللہ حافظ۔
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ خاتون نے شوہر کی رضا مندی سے خلع لیا ہو اس پر دونوں نے ایجاب و قبول بھی کر لیا ہو تو یہ خلع شرعاً بھی درست ہے جو طلاق بائن کے حکم میں ہے، جس کے بعد تین ماہواریاں عدت شمار ہونگی۔
ففي الهداية شرح البداية: وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال لقوله عليه الصلاة والسلام الخلع تطليقة بائنة اھ (2/ 13)