میری عدالت کے ذریعے خلع ہوئی جس کی وجوہات بہت تھیں ، میں نوکری کرتی تھی، اور کویت میں رہتی تھی، شادی کے فورا ً بعد ہی میں نے سابقہ شوہر کو وہاں بلایا کہ وہ بھی کام کریں، مگر انہوں نے مجھے کہا کہ مجھ سے کام نہیں ہو گا، تم کرو نوکری اور ذمہ داری اٹھاؤ، اس کے گھر والے بھی مجھ سے مطالبہ کرتے رہے اور وہ خود بھی، میں اپنا خرچہ خود بھی اٹھاتی تھی، وہ مجھ پر ہر بات پر شک کرنے لگے، اور مار پیٹ شروع کر دی، کبھی پستول اپنے سر پر رکھتے کبھی کسی اور چیز کی دھمکی دیتے کہ میں خود کو مارلوں گا ، اور الزام تم پر آئے گا ، میں نے2017 میں عدالت کے ذریعے خلع لے لی، کیونکہ مجھے بھی لگا تھا کہ ہم ساتھ نہیں رہ سکتے ہیں ،اور میں جنسی طور پر مطمئن بھی نہیں تھی، میں نے ابھی دس ماہ پہلے دوبارہ نکاح کیا ہے اور میں الحمد للہ خوش ہوں، میں نے خلع کے وقت مہر کی رقم معاف کر دی تھی، کیونکہ وہ مجھے دیا ہی نہیں گیا تھا اور میرا تمام جہیز بھی ،میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ میرا یہ دوسرا نکاح ٹھیک ہے؟
سائلہ نے خلع اگر شوہر کی رضا مندی سے لیا ہو تو اس کی عدت کے بعد اس کا دوسرا نکاح شرعاً درست منعقد ہو چکا ہے اور اگر کوئی اور صورت ہو تو اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ حکمِ شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
كما في كتاب المبسوط لشمس الدين السرخسی: (قال) والخلع جائز عند السلطان وغيره لانه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود الخ (6/173)
وفي الھندیة :اذا تشاق الزوجان وخافا ان لا يقيما حدود الله فلا باس بان تفتدی نفسها منه بمال يخلعها به فاذا فعلا ذلک وقعت تطلیقة بائنة ولزمها المال الخ(1/488)۔