کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے کہ ایک عورت عمرے کا سفر اپنی بہن کے خاوند کے ساتھ کر سکتی ہے جبکہ اس کی بہن بھی اس کے ساتھ اس سفر میں ہو ؟
عورت کا بہنوئی کے ہمراہ عمرہ کے سفر میں جانا جائز نہیں، اگرچہ بہن اس سفر میں ہمراہ کیوں نہ ہو ۔
كما فی الرد : ثم رأيت فی منية المفتى ما نصه : الخلوة بالأجنبية مكروهةوإن كانت معها اخرى كراهة تحريم اه (۳۶۸/۶)۔
كما فی الفتاوى التاتارخانيه : والمحرم فی حق المرأة شرط ، شابة كانتأو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام، وفی التجريد : وإن كان اقل من ذلك لم يعتبر (الى قوله) والمحرم الزوج ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد برضاع أو صرية وفى الخانية ، أو رحم ، ويكون ما مونا عاقلا بالغاء (۴/۴/۲)۔